30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتا۔ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان ’’اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ‘‘ کی تاویل کرنا ضروری ہے۔ اس کے متعلق کئی اقوال ہیں :
(۱) …حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہفرماتے ہیں :’’اِذْن سے مراد تخلیہ ہے یعنی جب انسان جادو کرتا ہے تو اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو اسے روک دے اور چاہے تو اسے جادو کا نقصان اٹھانے کے لئے چھوڑ دے۔‘‘
(۲)…حضرت سیِّدُنا اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہفرماتے ہیں : ’’اِذْن سے مراد علم ہے،کیونکہ اذان اور اذن کا معنی آگاہ کرنا ہے۔‘‘
(۳)…اِذْن کا معنی تخلیق ہے کیونکہ جادوکرتے وقت حاصل ہونے والا نقصان اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیدا کرنے سے ہی ہوتا ہے۔
(۴)… اگر میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے کو کفر قرار دیا جائے تو اِذْن سے مراد اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم ہے،کیونکہ اسے کفر قرار دینا ایک شرعی حکم ہے جو حکمِ الٰہی سے ہی ہو سکتا ہے۔ (۱)
’’خَلَاقٍ‘‘ سے مراد حصہ ہے اور اس کے ذکر کرنے سے مقصود جادوگروں کی انتہائی مذمت اوران کے لئے قبیح عذاب ہے کیونکہ اس شخص سے زیادہ خسارے والا، برا، حقیر اور ذلیل کوئی نہیں ہو سکتا جس کے لئے آخرت کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اسی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے بعدفرمایا:’’وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمْ ؕ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۰۲﴾‘‘
یعنی یہودیوں نے اپنے آپ کو جادو کے بدلے بیچ ڈالا، اگر وہ اس کی انتہائی مذمت جانتے تو اس کے بدلے اپنی جانیں نہ بیچتے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسی آیت مبارکہ سے پہلے ’’وَلَقَدْ عَلِمُوۡا‘‘ فرما کر ان کے لئے اس کا علم ثابت فرمایا اور آیت کے آخر میں ’’لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۰۲﴾‘‘ فرما کر ان سے اس کے علم کی نفی فرما دی کیونکہ دوسرے فرمان کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ اپنے علم سے اس کی مذمت جانتے تو اس پر عمل نہ کرتے گویا وہ اس سے علیحدہ ہو جاتے۔ یا پھر دوسرے فرمان سے مراد عقل و فہم رکھنا ہے کیونکہ علم عقل کا نتیجہ ہے، لہٰذا جب اصل کی نفی ہو گی تو اس کے نتیجہ کی بھی نفی ہو جائے گی اور اس اعتبار سے علم کا پایا جانا اس کے نہ پائے جانے کی طرح ہو جائے گا کہ وہ اس سے نفع حاصل نہ کر سکیں گے جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کفار کو اندھا، بہرہ اور گونگا کہا ہے کیونکہ وہ اپنے حواس(یعنی آنکھ، کان اور زبان) سے نفع حاصل نہیں کر سکتے۔ یا دونوں (یعنی عَلِمُوۡااور یَعْلَمُوۡنَ)کے متعلق میں فرق ہے یعنی وہ آخرت میں اس کا خسارہ جان لیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…التفسیر
الکبیر، البقرۃ،تحت الآیۃ ۱۰۲،ج۱،ص۶۳۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع