30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمانے میں پیش آیا۔‘‘
آیت ِ مبارکہ میں لفظ ِ ’’فِتْنَۃٌ‘‘سے مراد ایسی محبت ہے جس کے ذریعے حق و باطل اور مطیع و نافرمان میں فرق کیا جا سکے۔
ہاروت و ماروت جادو سکھانے سے پہلے نصیحت کے لئے ’’اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ‘‘ کہتے یعنی وہ کہتے کہ ہم تجھے یہ سمجھا دیتے ہیں کہ اگرچہ جادو سکھانے سے مقصود جادو اور معجزے میں فرق بتانا ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ تمہیں خرابیوں اور گناہوں کی طرف لے جائے، لہٰذا اسے ناجائز کاموں کے لئے استعمال کرنے سے اجتناب کرنا۔ (۱)
اس میں مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اختلاف ہے کہ اس فرمانِ خداوندی میں میاں بیوی میں جدائی ڈالنے سے کیا مراد ہے ؟ایک قول یہ ہے کہ جدائی ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ جب سحرزدہ یہ اعتقاد رکھے کہ اس جدائی میں مؤثر ِ(حقیقی) جادو ہے اور یہ اعتقاد کفر ہے اور جب اس نے کفر کیا تو اس کی بیوی اس سے جدا ہو گئی۔ ایک قول یہ ہے کہ جادوگر ملمع سازی، دھوکادہی اور حیلوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈالتے تھے اور یہاں دیگر برائیوں پر جھڑکنے کے لئے صرف میاں بیوی میں جدائی ڈالنے کوذکر کیااور دیگر باتوں کو ذکرنہ کیا جو وہ سیکھتے تھے اور انسان کو دیگر قریبی رشتہ داروں کی نسبت اپنی بیوی سے زیادہ محبت ہوتی ہے،لہٰذا جب جادو کے ذریعے شدتِ محبت کے باوجود میاں بیوی میں جدائی ہو سکتی ہے تو دیگر رشتہ داروں میں بدرجہ اَولیٰ ہو سکتی ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان ’’وَمَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ‘‘ مندرجہ بالا بات پر ایک دلیل ہے کیونکہ یہاں ضرر کو مطلق ذکر فرمایا اور اسے میاں بیوی میں جدائی پر منحصر نہ کیاپس یہ اس بات پر دلیل ہے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ معاملہ ہے۔ (۲)
اِذْ نکا مفہوم:
حضرت سیِّدُنا امام فخر الدین محمد بن عمر رازی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’درحقیقت اِذْن حکم میں ہوتا ہے جبکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جادو کا حکم نہیں دیتا کیونکہ اس نے تو اس کی مذمت بیان فرمائی ہے،لہٰذا اگر وہ اس کا حکم دیتا تو اس کی مذمت نہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی علوم الکتاب، البقرۃ،تحت الآیۃ۱۰۲،ج۲،ص۳۴۵،۳۴۶،۳۴۷۔
2…اللباب فی
علوم الکتاب، البقرۃ،تحت الآیۃ۱۰۲،ج۲،ص۳۴۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع