30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماہیت کی پہچان کرانے کے لئے ان دونوں فرشتوں کو بھیجا۔
تیسری حکمت:
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمنوں میں جدائی ڈالنے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دوستوں کے درمیان محبت ڈالنے والا جادو ان کی شریعت میں جائز یا مستحب تھا، اسی مقصد کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایسے جادو کی تعلیم کے لئے ان دو فرشتوں کو بھیجا، لہٰذا لوگوں نے ان سے یہ جادو سیکھا مگراسے برے کاموں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمنوں کے درمیان محبت ڈالنے کے لئے استعمال کیا۔
چوتھی حکمت:
ہر چیز کا علم حاصل کرنااچھا ہے اور جب جادو ممنوع ہے تو اس کا معلوم اور متصورہونا ضروری ہے ورنہ اس سے منع نہ کیا جاتا۔
پانچویں حکمت:
شاید! جنوں کے پاس جادو کی ایسی اقسام تھیں جن کی مثل لانے پر انسان قادر نہ تھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان فرشتوں کوبھیجا تاکہ انسان ان سے جادو سیکھ کر جنوں کا مقابلہ کرسکے ۔
چھٹی حکمت:
لوگوں کو شرعی احکام کا پابند کرنے میں سختی کرنے کے لئے ان فرشتوں کو بھیجا اس اعتبار سے کہ جب انسان کوئی ایسا علم سیکھ لے گا جس کے ذریعے وہ دُنیوی لذَّات تک پہنچ سکتا ہو پھر اسے اس کے استعمال سے روک دیا جائے تو یہ انتہائی مشقت ہے جس پر وہ مزید ثواب کا حق دار ہوگا۔
بیان کردہ وجوہات سے ثابت ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جادو سکھانے کے لئے فرشتوں کو بھیج سکتا ہے۔ (۱)
نُزُوْل ہَارُوْت ومَارُوْت کا زمانہ:
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں :’’یہ واقعہ حضرت سیِّدُنا ادریس عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی
علوم الکتاب، البقرۃ،تحت الآیۃ۱۰۲،ج۲،ص۳۴۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع