30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرا اعتراض : یہ گمان فاسد ہے کہ انہیں دو عذابوں کے درمیان اختیار دیا گیا، بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ انہیں توبہ اور عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا کیونکہ جو تمام عمر شرک کرتا رہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بھی توبہ اور عذاب کے درمیان اختیار دیتا ہے تو ان دونوں کو بدرجۂ اَولیٰ یہ اختیار دینا چاہئے۔
جواب: ان پر سزا میں سختی کرتے ہوئے ایساکیا گیا اور انہیں شرک کرنے والے پر قیاس نہیں کیا جائے گا کیونکہ قرآن وسنت سے ثابت امور میں رائے کی گنجائش نہیں ہوتی۔
تیسرا اعتراض : سب سے عجیب بات یہ ہے کہ وہ لوگوں کو عذاب کی حالت میں بھی جادو سکھا رہے ہیں اور جادو کی طرف بلا رہے ہیں حالانکہ انہیں اسی کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے۔
جواب : اس میں بھی کوئی تعجب نہیں کیونکہ اس بات کا کوئی مانع موجود نہیں کہ کچھ لمحات کے لئے ان سے عذاب اٹھا لیا جاتا ہو اور وہ اسی وقت میں لوگوں کو جادو سکھاتے ہوں ، اس لئے کہ ان کا نزول ایک تو اپنی آزمائش کے لئے ہوا اوراس کی وجہ ذکر ہوچکی ہے اور دوسرا لوگوں کی آزمائش کے لئے ہوا تا کہ وہ ان سے جادو سیکھیں۔
نزولِ ہاروت و ماروت کی حکمتیں :
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ ہاروت و ماروت کو نازل کرنے کی کئی حکمتیں ہیں :
پہلی حکمت:
اس زمانے میں جادو گر بہت زیادہ تھے اور انہوں نے نبوت کی عجیب و غریب اقسام گھڑ رکھی تھیں اوروہ نبوت کا دعوی کرتے اور جادو کے ذریعے لوگوں کو چیلنج کرتے۔چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے لوگوں کو جادو سکھانے کے لئے دو فرشتے اُتارے تا کہ وہ جادو سیکھ کران نبوت کے جھوٹے دعویدار جادوگروں سے ٹکر لینے کے قابل ہو جائیں۔ اور یہ مقصد واضح ہے۔
دوسری حکمت:
معجزہ کے جادو کے مخالف ہونے کاعلم دونوں کی ماہیت کے علم پر موقوف
ہے، لوگ چونکہ جادو کی ماہیت سے ناواقف تھے لہٰذا اُن کے لئے جادو کی حقیقت کی
پہچان مشکل تھی۔چنانچہ، اللہ
عَزَّوَجَلَّ نے اس مقصد کے لئے جادو کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع