30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان کرنے والے حضرت سیِّدُنا ابنِ اعرابی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی اور حضرت سیِّدُنا ابنِ انباری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی ہیں۔(۱)
ہاروت اور ماروت فرشتے ہیں یانہیں (۱) ؟
ان کو فرشتہ نہ ماننے والوں کی پہلی دلیل یہ ہے کہ فرشتوں کے شایانِ شان نہیں کہ وہ جادو کی تعلیم دیں۔ دوسری دلیل (یہ ہے کہ فرشتوں کو نازل کرناجائز نہیں کیونکہ )اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ لَوْ اَنۡزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸﴾(پ۷، الانعام:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو کام تمام ہو گیا ہوتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔
اور تیسری دلیل یہ ہے کہ وہ دونوں فرشتے اگر انسانی صورت میں نازل کئے جاتے تو یہ حقیقت کو چھپانا ہوتا حالانکہ یہ درست نہیں اور اگر ایسا ہو سکتا تو ہر ایک شخص کے متعلق یہ بھی کہا جاسکتاتھا کہ وہ حقیقتاً انسان نہیں کیونکہ اس میں احتمال ہے کہ شاید وہ انسانی صورت میں فرشتہ ہو اور اگر دونوں فرشتے انسانی صورت میں نازل نہ کئے جاتے تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کے منافی ہوتا:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی علوم الکتاب، البقرۃ،تحت الآیۃ۱۰۲،ج۲،ص۳۴۰ تا۳۴۲۔
2…اعلیٰ ٰحضرت اِمامِ
اَہلسنّت حضرتِ علاّمہ مولانا امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے ہاروت وماروت فرشتوں کے متعلق
سوال ہوا کہ ہاروت وماروت
جوچاہ بابل میں قیدہیں فرشتے ہیں یاجن
یاانسان؟ اگران کو فرشتہ ماناجائے توعصمت فرشتوں کی کس دلیل سے ثابت کی جائے؟
اوراگرجن وانس کہاجائے تودرازی عمر کے واسطے کیاحجت(دلیل) پیش کی جائے؟کے جواب
میں ارشاد فرمایا: ’’ قصہ ہاروت وماروت جس طرح عام میں شائع ہے ائمۂ کرام کو اس پرسخت انکارشدید ہے۔ یہاں
تک کہ امام اجل قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی
عَلَـــیْہ نے فرمایا:ھٰذِہِ الْاَخْبَارُمِنْ کُتُبِ الْیَھُوْدِ وَاِفْتِرَائِھِم۔یہ خبریں یہودیوں کی
کتابوں اوران کی افتراؤں سے ہیں۔ ان کوجن یاانس ماناجائے جب بھی درازی عمر مستبعد (بعید)نہیں۔
سیِّدُناخضروسیِّدُناالیاس وسیِّدُناعیسٰیصَلَوَاتُ اﷲِتَعَالٰی وَسَلَامُہٗ
عَلَیْہِم اِنس ہیں اورابلیس جن ہے اورراجح
یہی ہے کہ ہاروت وماروت دوفرشتے ہیں جن کو رب عَزَّوَجَلَّ نے ابتلائے خلق (یعنی مخلوق
کی آزمائش) کے لئے مقررفرمایاکہ جو سحر (جادو) سیکھناچاہے اسے نصیحت
کریں کہ : اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ ؕ(پ۲، البقرۃ:۱۰۲)ہم تو آزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔اورجونہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں جائے اسے تعلیم کریں ، تووہ طاعت
میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔بِہٖ قَالَ اَکْثَرُ
الْمُفَسِّرِیْنَ عَلٰی مَاعَزَااِلَیْھِمْ فِی الشِّفَاءِ الشَّرِیْف ۔اکثرمفسرین نے یہی
کہاہے جیساکہ شفاشریف میں ان کی طرف منسوب ہے۔( الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰے فصل فی العقول فی عصمۃ الملائکۃ،ج۲،ص۱۷۰،۱۷۱) واللہ تعالٰی اعلم۔‘‘(فتاوی رضویہ ،ج۲۶،ص۳۹۶،ملتقطاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع