30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتاہے کیونکہ کوئی شئے کبھی ظاہراً توصحیح ہوتی ہے مگر باطناً صحیح نہیں ہوتی اور کبھی معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، پس وہ اس وقت گمان پر بھروسا کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔
ظن کی اقسام:
(۱)…ہر گمان گناہ نہیں بلکہ بعض تو واجب ہوتے ہیں جیسے دلائلِ شرعیہ پر مرتَّب ہونے والے فروعی(یعنی دلیل سے ثابت جُزوی) مسائل میں مجتہدین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے گمان، لہٰذا ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔
(۲)…بعض مستحب ہوتے ہیں جیسا کہ،
{4}…سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:’’مومن کے بارے میں اچھا گمان رکھو۔‘‘ (۱)
(۳)… بعض مباح ہوتے ہیں ۔
(۴)…اوربعض گمان حزم کہلاتے ہیں (یعنی احتیاط اور ہوشیاری سے کام لینا اور عقل مند لوگوں کے مشورے پر عمل کرنا) اوراسی سے متعلق حدیث ِ پاک ہے۔ چنانچہ،
{5}…رحمت ِ عالم ،نُورِمجسَّمصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے:’’بے شک بدگمانی حزم سے ہے۔ ‘‘ (۲)
یعنی وہم کرنے والا حقیقت میں کسی کام پر قادر بھی ہوتا ہے جیسے وہ احتیاطاً کسی ایسے شخص کے معاملہ کو طول دے جس کے حال سے وہ بے خبر ہو یہاں تک کہ وہ اس سبب سے دوسرے سے تکلیف یا دھوکے میں مبتلا ہو نے سے محفوظ ہو جائے، پس اس گمان کا نتیجہ کسی کے بارے میں بدگمانی کرنا نہیں بلکہ برائی پہنچنے سے اپنی جان کو بچانے میں مبالغہ کرنا ہے۔
تَجَسُّس کا معنی ہے چھان بین کرنا اور جاسوس اسی سے نکلا ہے اور اس سے مراد لوگوں کے عیب تلاش کرنا ہے، جبکہ تَحَسُّس سے مراد احساس اور ادراک ہے اور اسی سے ظاہری اور باطنی حواس ہیں۔
قرآنِ کریم کی ایک شاذ قراء ت میں تَجَسُّس کی بجائے تَحَسُّس ہے، ان کے معنی ومفہوم کے متعلق چند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الکبیر ،الحدیث:۲۳۹،ج۲۳،ص۱۵۶۔
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب مُداراۃالناس،باب الحذرمن الناس…الخ،الحدیث:۱۱۴،ج۷،ص۵۳۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع