30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمین ہے۔‘‘(۱)
ہاروت اور ماروت کے متعلق تحقیق:
ہاروت وماروت کے متعلق صحیح یہ ہے کہ وہ فرشتے ہیں اور اکثر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا مؤقف یہی ہے، البتہ! اسے ایک شاذ قراء َت میں لام کے کسرہ کے ساتھ ’’مَلِکَیْنِ‘‘ بھی پڑھا گیا ہے تومعنی یہ ہو گا کہ یہ دونوں انسان ہیں ۔
جمہور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک ہَارُوْتَ اور مَارُوْتَ کی تَ پر فتحہ ہے اور مَلَکین میں لَام کے فتحہ کی صورت میں یہ دونوں اس سے بدل ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ اَلنَّاس سے بدلِ بعض ہیں۔ ایک قول کے مطابق یہ دونوں شَیٰطِیْن سے بدل ہیں۔ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ دونوں مَنْصُوبٌ عَلَی الذَّمّ ہیں یعنی ہاروت اور ماروت تمام شیاطین کے درمیان قابلِ مذمت ہیں جس نے ملکین کے لام کو کسرہ دیا اس نے مذکورہ قاعدہ جاری کیا۔ ہاں ! اگر مَلَکَان کی تفسیر حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کی جائے جیسا کہ بعض مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس کا تذکرہ بھی کیا ہے تو اس صورت میں ہاروت اور ماروت کو شَیٰطِیْن یا اَلنَّاس سے بدل بنانا ضروری ہو گا۔
لام کے فتحہ کی بنا پر ایک قول کے مطابق ان سے مراد دو آسمانی فرشتے ہیں جن کا نام ہاروت اور ماروت ہے اور یہی صحیح ہے جس کی تصریح شراب کی بحث میں آنے والی صحیح حدیث ِ پاک میں آئے گی۔ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد حضرت سیِّدُنا جبرئیل اور حضرت سیِّدُنا میکائیل عَلَـــیْہِمَا السَّلَام ہیں۔ ملکین میں لام کے کسرہ کی صورت میں ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد جنوں کے دو قبیلے ہیں جبکہ ایک قول کے مطابق حضرت سیِّدُنا داؤد اور حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَـــیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔بعض نے کہا: وہ دو نیک آدمی تھے۔ایک قول کے مطابق ان سے مراد دوجادوگر ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان سے مراد بابل کے عِلْجَان اور اَقْلَفَان نامی دو شخص ہیں جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔
ایک قول کے مطابق یُعَلِّمَانِبابِ افعال سے یُعْلِمَانِ ہے، اس لئے کہ بابِ افعال اور تفعیل ایک دوسرے کی جگہ آتے رہتے ہیں کیونکہ فرشتے جادو نہیں سکھاتے تھے بلکہ اس کی برائی کے متعلق آگاہ کرتے تھے۔ یُعْلِمُ بابِ افعال سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی
علوم الکتاب، البقرۃ،تحت الآیۃ۱۰۲،ج۲،ص۳۴۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع