30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مطلقًا قتل کیا جائے گا اوراس کا یہ قول قبول نہیں کیا جائے گا کہ میں جادو چھوڑتا اور توبہ کرتا ہوں اور اگر وہ اقرار کرے کہ میں طویل عرصہ جادو کرتا رہا لیکن کچھ عرصہ سے اسے چھوڑ دیا ہے تو اس کی بات مان لی جائے گی اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ حضرت سیِّدُنا امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ(متوفی۱۵۰ھ)سے پوچھا گیا: ’’جادوگر کے لئے مرتد جیسا حکم کیوں نہیں یہاں تک کہ مرتد کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے؟‘‘ تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہنے ارشاد فرمایا:’’کیونکہ اس نے کفر کے ساتھ ساتھ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش بھی کی اورایسے شخص کو مطلقًا قتل کیا جائے گا۔‘‘ (۱)
اس دلیل کی تردید یہ کہہ کر کی گئی کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس یہودی کو قتل نہ کیا جس نے آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جادو کیا تھا تو مومن کا انہی جیسا حکم ہے کیونکہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانہے: ’’ان (یعنی ذمیوں ) کے لئے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے لئے ہیں اور ان پر وہی واجبات ہیں جو مسلمانوں پر ہیں۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ(متوفی۱۵۰ھ)نے اس روایت سے استدلال کیا کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی لونڈی نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر جادو کیا تو لوگوں نے اسے پکڑلیا۔ جب اس نے اپنے فعل کا اعتراف کر لیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حکم پر حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس لونڈی کو قتل کر دیا، یہ بات امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتک پہنچی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے ناپسند فرمایا۔ اس کے بعد حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس عورت کا معاملہ عرض کیا۔ گویا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے قتل کو اس لئے ناپسند فرمایاکیونکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی اجازت کے بغیر اسے قتل کر دیا تھا۔‘‘ (۳)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حکم فرمایا: ’’ہر جادوگر اور جادوگرنی کو قتل کر دوتو لوگوں نے 3 جادوگروں کوقتل کر دیا۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی علوم الکتاب،البقرۃ،تحت الآیۃ ۱۰۲،ج۲،ص۳۳۶۔
2…سنن ابی داود،کتاب الجھاد،باب علی ما یقاتل المشرکون ،الحدیث:۲۶۴۱،ص۱۴۱۸۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الدیات ،باب الدم یقضی فیہ الامراء ،الحدیث:۴،ج۶،ص۴۳۰۔
4…المصنف
لابن ابی شیبۃ ،کتاب الحدود،باب ما قالوا فی الساحر،مایصنع بہ؟،الحدیث:۷،ج۶،ص۵۸۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع