30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جادو کرنے والے کے متعلق حکمِ شرعی:
جادو کرنے والے کے متعلق علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے کہ کیا وہ کافر ہو جائے گا یا نہیں ؟
جادو کی بیان کردہ گزشتہ اقسام میں سے پہلی دواقسام کا جادو کرنے والے کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ، اس لئے کہ اس شخص کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں جو ستاروں کے متعلق نظامِ کائنات چلانے کا اعتقاد رکھے یا یہ عقیدہ رکھے کہ انسان اپنے نفس کو صاف ستھرا کرکے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کا نفس کسی جسم کے بنانے یا اس میں زندگی پیدا کرنے یا اس کی صورت تبدیل کرنے میں مؤثر ہوتا ہے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ جادو کرنے والا یہ اعتقاد رکھے کہ وہ نفس کو صاف کرنے، تعویذ پڑھنے اور بعض دواؤں کودُھواں دینے میں اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ جِنّ جسمانی ساخت اور صورت تبدیل کرنے میں اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ معتزلہ نے صرف ان تینوں اقسام کا جادو کرنے والوں کو کافر قرار دیا۔ جادو کی دیگر اقسام کے متعلق ایک گروہ کاقول ہے کہ وہ مطلقًا کفر ہیں کیونکہ جب یہودیوں نے حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف جادو منسوب کیا تو ان کی اس سے پاکی بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَمَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحْرَ ٭(پ۱، البقرۃ:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں۔
اس آیت ِ مبارکہ سے واضح ہوتاہے کہ شیاطین جادو سکھانے کی وجہ سے کافر ہوئے کیونکہ حکم کو مناسب وصف پر مرتب کرنا شعور دِلاتا ہے کہ وہ وصف اس حکم کی علت ہے اور جو شے کفر نہ ہو اس کے سکھانے سے کفر ثابت نہیں ہوتا اور یہ اصول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جادو مطلقًا کفر ہے۔
اسی طرح ہاروت وماروت فرشتوں کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان بھی جادو کے کفر ہونے کا تقاضا کرتا ہے:
وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ ؕ (پ۱، البقرۃ:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ دونوں
کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا
ایمان نہ کھو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع