30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ؕ(پ۲۳،الزمر:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔
اگر جادو نہ سیکھا جاتا تو جادو اور معجزہ کے درمیان فرق کرنا ممکن نہ ہوتااور چونکہ عقل کو عاجز کر دینے والی چیز کو عاجز کر دینے کا علم حاصل کرناواجب ہے تو جس پر واجب موقوف ہوتا ہے اس کا علم حاصل کرنابھی واجب ہے پس یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جادو کا علم سیکھنا واجب ہے، لہٰذا جو شے واجب ہو وہ حرام اور بری کیسے ہو سکتی ہے۔ (۱)
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے منقول ہے:’’مفتی پرجادو کا علم سیکھنا واجب ہے تا کہ وہ جان سکے کہ کس جادو کی وجہ سے قتل ہو سکتا ہے اور کس کی وجہ سے نہیں اور قصاص کے واجب ہونے میں اس کے مطابق فتویٰ دے۔‘‘ (۲)
مذکورہ عبارات پر مصنِّف کا تبصرہ:
حضرت سیِّدُنا امام فخر الدین رازی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کا مذکورہ کلام محلِ نظر ہے اور اگراسے تسلیم کر بھی لیا جائے تو پھر بھی یہ ہمارے ذکرکردہ اس عنوان کے منافی نہیں کہ’’ جادو سیکھنا اور سکھانا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ کیونکہ کلام جادو کے سیکھنے یا سکھانے کے متعلق نہیں بلکہ اس شخص کے متعلق ہے جو جادو سیکھے خواہ اس کی حرمت پر آگاہ ہو یا نہ ہو اورپھر توبہ کرلے تو اب اس کے پاس جادو کا جو علم ہے جس میں کفر بھی نہیں تو کیا وہ فِیْ نَفْسِہٖ برا ہے یا نہیں ؟ اس میں ظاہر حکم یہ ہے کہ وہ فِیْ نَفْسِہٖ برا نہیں بلکہ برائی اس پر مرتب ہونے والے گناہ کی وجہ سے ہے۔
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کامفتی کے جادو سیکھنے کا قول بھی صحیح نہیں کیونکہ قصاص واجب ہونے یا نہ ہونے کا فتویٰ دینے کے لئے جادو کا علم سیکھنا ضروری نہیں ، کیونکہ فتویٰ کا طریقۂ کار یہ ہے کہ اگر جادو کا علم رکھنے والے دو عادل شخص جوجادو سے توبہ کر چکے ہوں ، اس کی گواہی دے دیں کہ اکثر اس قسم کے جادو سے قتل ہو جاتا ہے تو جادو کرنے والے کو قتل کیا جائے گا ورنہ نہیں۔ اسی طرح معجزہ کا علم جادو سیکھنے پر موقوف نہیں کیونکہ اکثر بلکہ سوائے چند ایک کے تمام علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ان دونوں کے درمیان فرق تو جانتے ہیں لیکن جادو کا علم نہیں رکھتے۔ ان دونوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…التفسیر الکبیر، البقرۃ ،تحت الآیۃ ۱۰۲،ج۱،ص۶۲۶۔
2…اللباب فی
علوم الکتاب،البقرۃ،تحت الآیۃ ۱۰۲،ج۲،ص۳۳۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع