30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گی تو وہ موجود ہو گی۔‘‘ چنانچہ،میں نے اپنے دل میں گندم کے دانے کا تصور کیا تو دانہ موجود پایا، میں نے کہا: ’’کاشت ہو جا۔‘‘وہ کاشت ہو گیا اور اسی وقت بالی نکل آئی، میں نے دوبارہ کہا:’’ابھی گندھ جا۔‘‘ وہ اسی وقت گندھ گیا ۔میں نے کہا:’’ روٹی بن جا۔‘‘ تو وہ روٹی بن گیا اب میں جس چیز کا بھی ارادہ کرکے دل میں اس کا تصور کرتی ہوں تو وہ موجود ہوتی ہے۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے (اس کی بات سن کر) ارشاد فرمایا:’’تیرے لئے کوئی توبہ نہیں۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۶۷۱ھ) فرماتے ہیں : ’’مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی طرف سے جو کرتا ہے وہ جادو نہیں ، مثلاً ٹڈیوں ، جُوؤں اور مینڈکوں کا نازل کرنا، سمندر کا پھٹ جانا، لاٹھی کا سانپ میں بدل جانا، مُردوں کو زندہ کرنا، قو ّتِ گویائی سے محروم لوگوں کو بولنے پر قدرت عطا کرنا اور اسی طرح انبیاءے کرام عَلَـــیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے معجزات بھی جادو نہیں۔‘‘ (۲)
جادو اور معجزہ میں فرق:
جادو اور معجزہ میں فرق یہ ہے کہ جادو جادوگر اور اسے سیکھنے والے ہر شخص سے صادر ہو سکتا ہے اور کبھی ایک جماعت جادو سیکھتی ہے اور بیک وقت اس سے جادو کا وقوع ہوجاتا ہے جبکہ معجزہ کی شان یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کو اس کی مثل یامقابل لانے کی قدرت نہیں دیتا۔ (۳)
جادو سیکھنے کا حکم:
حضرت سیِّدُنا امام فخر ُ الدین محمد بن عمر رازیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’محققین کا اتفاق ہے کہ جادو کا علم نہ برا ہے اور نہ ہی ممنوع اس لئے کہ ہر علم ذاتی طور پر شرف والا ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان میں علم کا عمومی حکم ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…التفسیر الکبیر،البقرۃ ،تحت الآیۃ ۱۰۲،ج۱،ص۶۲۶۔
المستدرک،کتاب البروالصلۃ ،باب حکایۃ امراۃ فزعت من عمل السحر،الحدیث:۷۳۴۴، ج۵،ص۲۱۵۔
2…الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، البقرۃ ،تحت الآیۃ۱۰۲،ج۱،الجزء الثا نی ،ص۳۶۔
3…الجامع
لاحکام القرآن للقرطبی، البقرۃ ،تحت الآیۃ۱۰۲،ج۱،الجزء
الثا نی ،ص۳۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع