30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیز اس فرمانِ باری تعالیٰ کی وعید کے تحت آجاتا ہے: وَلَا تَقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ (پ۵،النسآء:۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اپنی جانیں قتل نہ کرو۔
"تَلْمِزُوۡۤا"اور "تَنَابَزُوۡا" کے دونوں صیغے ایک دوسرے کے برعکس ہیں کیونکہ بعض اوقات مَلْمُوْز (یعنی جس پر عیب لگایا جاتا ہے) اسی وقت اس بات پر قادر نہیں ہوتا کہ عیب لگانے والے کو عیب لگائے، لہٰذا اسے عیب لگانے والے کے احوال کی جستجو کی ضرورت ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کے بعض عیوب پر آگاہ ہو جائے، مگر نبز کا معاملہ اس کے برعکس ہے، کیونکہ جس کو ناپسندیدہ لقب دیا جائے وہ دوسرے کو بھی اسی وقت ایسا لقب دینے پر قادر ہوتا ہے،پس دونوں طرف سے یہ فعل واقع ہوسکتا ہے۔
’’بِئْسَ الِاسْم‘‘ کا معنی یہ ہے کہ جس نے ان تینوں میں سے کسی ایک کا ارتکاب کیا وہ فسق کے نام کا مستحق ہو گیا اور یہ انتہائی خامی ہے حالانکہ پہلے وہ کامل الایمان تھا اوراللہ عَزَّوَجَلَّنے اس کے ساتھ سخت وعید ملا دی اور فرمایا: ’’وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾‘‘
یہ شدید وعید ان تینوں میں سے ہر ایک گناہ کے بڑے ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّنے گمانوں سے بچنے کا حکم دیا اور اس کی وجہ بیان فرمائی کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
بدگمانی کی تعریف: (۱)
بدگمانی یہ ہے کہ’’کسی کے بارے میں یقینی خبر کے بغیر اس کے کسی برائی میں مبتلا ہونے کا تجھے گمان ہو اور تیرا دل اس پر پختہ ہو یا بغیر شرعی دلیل کے تو زبان سے ا سے بیان کر دے۔‘‘
{3}…اسی وجہ سے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’بد گمانی سے بچو! کیونکہ بد گمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔‘‘ (۲)
اپنے معاملے کایقینی علم رکھنے والاعقلمنددوسرے میں موجودیقینی عیب جاننے کے باوجود بہت کم ہی بدگمانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…بدگمانی کے متعلق تفصیلی معلومات اور شرعی احکام کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ57 صفحات پر مشتمل کتاب ’’بَدْگمانِی‘‘ کا مطالعہ فرمالیجئے ۔
2…صحیح البخاری ،کتاب الادب ،باب ماینھی عن التحاسد والتدابر ،الحدیث:۶۰۶۴،ص۵۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع