30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائے یہاں تک کہ وہ دیوار کے چھوٹے سے سوراخ میں بھی داخل ہو جائے(۲) بانس یا سرکنڈے کے سرے پر سیدھا کھڑا ہو جانا (۳)باریک دھاگے پر چلنا(۴) ہوا میں اڑنا(۵) پانی پر چلنا اور(۶) کتے کی سواری کرنا وغیرہ۔ جادو ان افعال کی علّت ہے نہ ان کا موجب، بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّجادو کے پائے جانے کے وقت یہ اشیاء پیدا فرماتا ہے جیسا کہ وہ کھانا کھاتے وقت آسودگی(یعنی شکم سیری)اور پانی پیتے وقت سیرابی پیدا کرتا ہے۔
{3}…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۱۶۱ھ) حضرت سیِّدُنا عمار ذہبی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے روایت فرماتے ہیں : ’’ولید بن عقبہ کے پاس ایک جادوگر تھا جو رسی پر چلتا اور گدھے کی سُرِین (یعنی اس کے پاخانہ کے مقام ) سے داخل ہوتا اور منہ سے نکل جاتا تھا، حضرت سیِّدُنا جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی تلوار پر قبضہ کر لیااوراسی سے اسے قتل کر دیا۔‘‘ یہ حضرت سیِّدُنا جندب بن کعب ازدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں جنہیں بَجَلِی کہا جاتا تھا۔ یہی وہ شخصیت ہے جس کی شان میں حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’میری امت میں ایک ایسا شخص ہے جسے جُنْدُب کہا جاتا ہے وہ تلوار کے ایک ہی وار سے حق اور باطل کے درمیان فرق کر دیتا ہے۔‘‘ (۱) حضرت سیِّدُنا حارثہ بن مضرِّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَــیْہ نے حضرت سیِّدُنا علی بن مدینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی سے روایت فرمایا کہ لوگ حضرت سیِّدُنا جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جادوگروں کا قاتل سمجھتے تھے۔(حضرت سیِّدُناامام قرطبی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا کلام ختم ہوا)(۲)
جادو کے متعلق معتزلہ کا نظریہ:
معتزلہ نے جادو کی مذکورہ اقسام میں سے پہلی 3 کا انکار کیا۔ منقول ہے کہ شاید انہوں نے جادو او راس کے وجود کے قائلین کو کافر قرار دیا ہے۔
اہل سنت وجماعت کا نظریہ:
اہلِ سنت وجماعت نے جادو کی تمام اقسام کو تسلیم کیا ہے، مثلاً جادوگر کا ہوا میں اڑنے یا انسان کو گدھے اور گدھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المصنف لعبد الرزاق،کتاب العقول،باب قتل الساحر، الحدیث:۱۹۰۱۹،ج۹، ص۴۷۸،دون قولہ:یکون …الی جندب۔
2…الجامع
لاحکام القرآن للقرطبی، البقرۃ،تحت الآیۃ۱۰۲،ج۱، الجزء الثانی،
ص۳۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع