30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فصاحت پائی جاتی ہے ،پس جو شے حق واضح کرتی ہے اُسے سحر اور جادو کا نام دیا جاتا ہے اور اس سے مقصود پوشیدہ کو ظاہر کرنا ہے نہ کہ ظاہر کو پوشیدہ کرنا اور یہ مفہوم اس کے برعکس ہے جس پر لفظ ِ سحر دلالت کرتا ہے ،کیونکہ اس کی اتنی مقدار اپنے لُطف وحسن کی وجہ سے دلوں کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہے، لہٰذا اس اعتبار سے یہ اس جادو کے مشابہ ہے جو دِلوں کو موہ لیتا ہے۔ اسی طرح بیان پر قدرت رکھنے والا اکثر برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا کر پیش کرنے پر قادر ہوتا ہے لہٰذااس اعتبار سے بھی یہ جادو کے مشابہ ہے۔
حقیقت ِ سحر:
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اس میں اختلاف ہے کہ کیا جادو کی کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں ؟
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’یہ محض ایک خیال ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: یُخَیَّلُ اِلَیۡہِ مِنۡ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی ﴿۶۶﴾ (پ۱۶، طہ:۶۶)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں۔
اکثر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’جادو کی حقیقت حدیث ِ مبارکہ ثابت ہے اور یہی صحیح ہے، اس لئے کہ لعنتی یہودی جادوگرلَبِیْد بِن اَ عْصَم نے رحمت ِ عالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جادو کیا اور آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وحی کے ذریعے آگاہ ہوکر ذِی اَرْوَان نامی کنوئیں سے اُس جادو کاسامان نکالنے کا حکم ارشاد فرمایا، لہٰذا اسے وہاں سے نکالاگیا، وہ گرہوں والا تھا، اس کی گرہیں کھول دی گئیں۔ جب بھی اس کی کوئی گرہ کھلتی تو جادو کا اثر کم ہو جاتا یہاں تک کہ ساری کھل گئیں توآپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایسے ہو گئے گویا کہ رسی سے آزاد کر دیا گیا ہو۔ (۱)
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا درختوں پر لگے ہوئے پھل شمار کرنے کے لئے خیبر تشریف لے گئے تو یہودیوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جادو کر دیا جس سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہاتھ شدید متاثر ہوا توامیرالمؤمنین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن النسائی،کتاب المحاربۃ،باب سحرۃ اہل الکتاب، الحدیث:۴۰۸۵،ص۲۳۵۵۔
المعجم الکبیر، الحدیث:۵۰۱۶،ج۵، ص۱۸۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع