30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{1}…خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’بلاشبہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔‘‘(۱)
حدیث ِ پاک کی تشریح :
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی کیونکہ بیان کرنے والا مشکل کی وضاحت کرتا ہے اور اپنے حسنِ بیان اور بلیغ عبارت سے مشکل کلام کی حقیقت سے پردہ اُٹھاتا ہے۔ فصاحت وبلاغت کی وجہ سے اسے مذمت سے خارج قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اسے جادو کے مشابہ قرار دینا بعید ہے اور جس فرمانِ عالیشان سے استدلال کیا گیا ہے اس میں کوئی دلالت نہیں اور وہ فرمانِ عالیشان یہ ہے: ’’شاید! تم میں سے کوئی ایک، دلیل قائم کرنے میں دوسرے سے زیادہ خوش بیان ہو۔‘‘ (۲)
سب سے ناپسندیدہ کون؟
{2}…سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’مجھے تم میں سب سے زیادہ ناپسند باتونی اور بڑھا چڑھا کر باتیں کرنے والے ہیں۔‘‘ (۳)
حدیث ِ پاک کے راوی حضرت سیِّدُناعامر شَعبِی اورحضرت سیِّدُناصَعْصَعَہ بِن صُوْحَان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے منقول ہے کہ بیان کوسحر کہنے سے مقصود مذمت ہے ۔آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمانِ عالیشان: ’’اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا‘‘ میں بھی لفظِ سحر سے مقصود مذمت ہے۔ مثلاً ایک شخص پر کوئی حق لازم ہو مگر وہ صاحب ِ حق سے بہتر انداز میں دلائل دے سکتا ہو،اور وہ لوگوں کو اپنے بیان سے متأثر کر لے اور دوسرے کا حق مار لے حالانکہ حق اس پر لازم ہواور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اس حد تک بلاغت اور زبان دانی کو پسند کرتے ہیں کہ وہ کلام میں طُول، تفصیل اور باطل کو حق کی صورت دینے کی حد تک نہ پہنچے۔
پہلا قول یہ ہے کہ بیان کو سحر کہنا مدح کے لئے ہے کیونکہ اس میں حق کو واضح کرنے اور اشکال کو دُور کرنے والی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب النکاح،باب الخطبۃ، الحدیث:۵۱۴۶، ص۴۴۵۔
2…صحیح البخاری ،کتاب الحیل ، باب (۱۰) الحدیث:۶۹۶۷،ص۵۸۱۔
3…المسند
للامام احمد بن حنبل،حدیث ابی ثعلبۃ الخشنی،الحدیث:۱۷۷۴۷،ج۶،ص۲۲۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع