30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سِحْرکالُغوی معنی :
اس کا لغوی معنی ہے: ’’ہر وہ چیز جو لطیف اور باریک ہو۔‘‘ اور یہ ’’سَحَرَہٗ‘‘ سے ہے اور اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی شخص کے لئے کوئی ایسا معاملہ ظاہر ہو جس کا سمجھنا اُس پر دُشوار اور مخفی ہو۔ قرآنِ مجید میں یہ لفظ اس طرح بیان ہوا ہے:
فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوۡۤا اَعْیُنَ النَّاسِ(پ۹، الاعراف:۱۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:جب انہوں نے ڈالا، لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا۔
اور سَحْر(س کے فتحہ کے ساتھ) غذا کو کہتے ہیں اس کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے۔پھیپھڑوں اور حلقوم سے متعلق جسمانی حصے کو بھی سَحر کہتے ہیں۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مبارک فرمان میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’حضورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حال میں وصال فرمایا کہ میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم نے آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے جو کچھ کہا اسے حکایتاً بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:’’قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾ۚ(پ۱۹،الشعراء:۱۵۳)اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ آپ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامایسی مخلوق میں سے ہیں جو کھاتے اور پیتے ہیں اور اس کی دلیل دیتے ہوئے کہنے لگے :
مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۚۖ (پ۱۹، الشعراء:۱۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو۔
یعنی تم تو ہماری مثل کھانے پینے والے انسان ہی ہو۔
سِحْرکاشرعی معنی:
شرعی طور پر یہ لفظ ہر اس امر کے ساتھ خاص ہے جس کا سبب پوشیدہ ہو اوراسے حقیقت کے علاوہ پر محمول کیا جائے اوریہ حقائق کی پردہ پوشی اور دھوکا دہی کے قائم مقام ہوتا ہے۔
جب یہ لفظ مطلق استعمال کیا جائے تو مذموم معنی مراد ہوتا ہے، بعض اوقات اس کا استعمال کسی نفع مند اور قابلِ تعریف فعل میں ہوتاہے مگرکسی قید کے ساتھ ۔ چنانچہ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح
البخاری،کتاب المغازی ،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث:۴۴۴۹،ص۳۶۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع