30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر318: مسلمان کو ڈرانا
کبیرہ نمبر319: اس کی طرف اسلحہ وغیرہ کے ساتھ اشارہ کرنا
کسی کو ڈرانا ظلمِ عظیم ہے:
{1}…حضرت سیِّدُنا عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہیکہ ایک شخص نے مذاق میں دوسرے کا جوتا لے کر غائب کر دیا اس نے حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کو نہ ڈراؤکیونکہ مسلمان کو ڈرانا بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ (۱)
{2}…سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے کسی مومن کو ڈرایا تواللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق ہے کہ اسے قیامت کے دن کی گھبراہٹوں اورپریشانیوں سے امن نہ دے۔‘‘ (۲)
{3}…اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے کسی مسلمان کو ناحق ڈرا نے والی نظروں سے دیکھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے قیامت کے دن خوف زدہ کرے گا۔‘‘ (۳)
{4}…نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے۔‘‘ (۴)
حضور نبی ٔ کریمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بات اس وقت ارشاد فرمائی جب صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں سے ایک شخص نے سوئے ہوئے شخص کو ڈرایا اور رسی اُٹھا کر اس کے پاس کھڑا ہوگیا ۔ جب وہ بیدار ہوا تو خوف زدہ ہوگیا۔
{5}… سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی مذاقاً یا حقیقتاً اپنے بھائی کا سامان نہ اُٹھائے ۔‘‘ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الترغیب والترھیب ،کتاب الادب ،باب الترھیب من ترویع المسلم…الخ ،الحدیث:۴۳۰۱،ج۳،ص۳۸۶۔
2…المعجم الاوسط،الحدیث:۲۳۵۰،ج۲،ص۲۰۔
3…المعجم الکبیر، الحدیث:۷۰،ج۱۳،۱۴،ص۲۲۔
4…سنن ابی داود،کتاب الادب، باب من یاخذ الشیٔ من مزاح، الحدیث:۵۰۰۴،ص۱۵۸۹۔
5…المرجع
السابق ،الحدیث:۵۰۰۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع