30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرمِ پاک میں یا ان مہینوں میں کیا جن میں ایسا کرنا منع ہے یا کسی مسلمان کو کمزور سمجھتے یا اس پر برتری چاہتے ہوئے ایسا کیا تو یہ بھی کبیرہ گناہ ہے۔‘‘
اس کلام کا دار ومدار بھی اسی پر ہے جس پر حضرت سیِّدُناامام حلیمیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کے پچھلے باب میں مذکور کلام کا دارومدار تھا اور انہوں نے فاحشہ، کبیرہ اور صغیرہ کے درمیان فرق کو اختیار کیا، یعنی کوئی گناہ ایسا نہیں جس میں صغیرہ اور کبیرہ نہ ہو اور کبھی صغیرہ کسی قرینہ کے ملنے سے کبیرہ بن جاتا ہے اور کبھی کبیرہ کسی قرینہ کی وجہ سے فاحشہ بن جاتا ہے سوائے کفر کے کیونکہ یہ تمام کبیرہ گناہوں سے فحش ترین ہے اور اس کی قسم میں سے کوئی بھی صغیرہ نہیں ، پھر اس کی مثالیں ذکر کیں جن میں سے قتل کبیرہ گناہ ہے اوراگر رشتہ دار کو قتل کیا تو یہ فاحشہ بن جائے گا اور قتل سے کم تکلیف والی چوٹیں گزشتہ قید کے ساتھ صغیرہ ہیں ، حالانکہ یہ اصطلاح صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن، شیخین (یعنی امام رافعی وامام نووی ) اور ائمۂ متاخرین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے مؤقف کے خلاف ہے کیونکہ بے قصورکو مارنا اور اسے ایذا دینا کبیرہ گناہ ہے۔
پھر میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) کا کلام میرے مؤقف کی تائید کرتا ہے۔ چنانچہ، وہ حضرت سیِّدُناحلیمیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی پر اعتراض کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’جب نوچنے اور مارنے کی تکلیف بہت زیادہ ہو یا باپ یا ولی کے ساتھ ان دونوں میں سے کوئی ایک فعل کیا جائے تو انہیں کبیرہ سے ملانا چاہئے۔‘‘
۞۞۞۞۞۞۞
[۔۔۔۔6افراد پر لعنت۔۔۔۔]:
فرمانِ مصطفی: 6طرح کے لوگوں پر میں نے لعنت کرتاہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اُن پر لعنت فرماتا ہے اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے۔6اشخاص یہ ہیں:(۱) کتاب اللہ میں اضافہ کرنے والا (۲)تقدیر کو جھٹلانے والا (۳)میری امت پر ظلم کے ساتھ تسلط کرنے والاکہ اس شخص کو عزت دیتا ہےجس کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ذلیل کیا اور اس کو ذلیل کرتا ہے جس کو اللہ عَزَّوَجَلَّنے عزت عطا فرمائی(۴)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حرم(حرمِ مکہ) کو حلال ٹھہرانے والا (۵)میرے اہلِ بیت کی حُرمت جس کا اللہ عَزَّوَجَلَّنےحکم دیا ہے اس کو پامال کرنے والااور (۶)میری سنت کو چھوڑ نے والا۔(صحیح ابن حبان، الحدیث۵۷۱۵،ج۷،ص۵۰۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع