30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{4}…تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’تم میں سے کوئی ایسی جگہ ہر گز کھڑا نہ ہو جہاں کسی شخص کو ظلم سے قتل کیا جا رہا ہو کیونکہ لعنت ان پر بھی ہو تی ہے جو وہاں موجود ہوں جبکہ وہ اس کا دفاع نہ کریں۔‘‘ (۱)
تنبیہ:
اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، شیخین(یعنی امام رافعی وامام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمَا) وغیرہ کا بھی یہی مؤقف ہے اور یہ اس کے متعلق وارد شدید وعید سے واضح ہے لیکن شیخین نے اسے مسلمان کے ساتھ مقیدکیا ہے جبکہ متاخرین کے ایک گروہ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مسلمان اور ذمی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)اپنی کتاب ’’اَلتَّوَسُّط‘‘میں فرماتے ہیں : ’’اس گناہ کو مسلمان کے ساتھ مقید کرنے میں اعتراض ہے، خصوصاً جبکہ مضروب (یعنی جس کو مارا جائے) رشتہ دار ہو اور اس میں کوئی خفا نہیں کہ کلام اس کے بارے میں ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی گئی ہو۔‘‘
حضرت سیِّدُنا حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیمطلقًا فرماتے ہیں : ’’نوچنا، ایک یا دو ضربیں لگانا صغیرہ گناہوں میں سے ہے، نیز کبھی کبھی دو مار کھانے والوں کے درمیان قوت و کمزوری اور شرف و کمینگی کے اعتبار سے فرق کیا جاتا ہے۔‘‘
’’اَلْخَادِم‘‘ میں حضرت سیِّدُنا حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کا کلام ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ’’یہ ہوسکتا ہے کہ اِسے ’’العُدَّۃ ‘‘کے کلام پر محمول کیا جائے یعنی مطلق مارنا کبیرہ گناہ ہے اور شیخین نے اس پر زیادتی ثابت کی ہے، پھر مسلمان کے ساتھ اس مارنے کو مقید کرنے کا کوئی مفہوم نہیں کیونکہ ذمی بھی اسی طرح ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا مذکورہ قول’’اَلْمِنْھَاج‘‘ کی ابتدا میں مذکور ہے اور اسی کتاب کے آخر میں پہلے سے بھی زیادہ مشکل انداز میں ذکر کیا یعنی ’’اگر قتل کو چھوڑ کر اس سے کم تکلیف والی کوئی ایسی ضرب لگائی جو اسے لاغر وکمزور کرنے والی نہ ہو یا کوئی ایسا زخم لگایا جس سے اس کا کوئی عضو نہ ٹوٹا اور نہ ہی اس کے بدن کی منفعت میں سے کوئی چیز ناکارہ ہوئی تویہ کبیرہ گناہ نہیں لیکن اگر اس نے یہی سب کچھ اپنے ماں ، باپ یا کسی رشتہ دار سے کیا یا یہ فعل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم
الکبیر،الحدیث:۱۱۶۷۵،ج۱۱،ص۲۰۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع