30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کامقصد یہ ہے کہ کسی کو حقیر نہ سمجھو، ہو سکتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک تم سے بہتر، افضل اور زیادہ مقرب ہو۔ چنانچہ،
{1}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’کتنے ہی پریشان حال، پراگندہ بالوں اور پھٹے پرانے کپڑوں والے ایسے ہیں کہ جن کی پرواہ نہیں کی جاتی ۔ اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر کسی بات کی قسم کھا لیں تو وہ ضرور اسے پورا فرما دے۔‘‘ (۱)
ابلیسِ لعین نے حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حقیر جانا تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے اسے ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا کر دیا اور حضرت سیِّدُنا آدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمیشہ کی عزت کے ساتھ کامیاب ہو گئے۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے اوراس میں احتمال ہے کہ عَسٰی، یَصِیْرُ کے معنی میں ہو یعنی کسی دوسرے کو حقیر نہ جان کیونکہ جب کبھی وہ عزت والاہو جائے گا اورتو ذلیل ہو جائے گاتو پھر وہ تجھ سے انتقام لے گا۔
لَا تُھِیْنُ الْفَقِیْرَ عَلَّکَ اَنْ تَرْکَعَ یَوْمًا وَالدَّھْرُ قَدْ رَفَعَہٗ
ترجمہ: …فقیر کی توہین نہ کر شاید تو کسی دن فقیر ہو جائے اور زمانے کا مالک اسے امیر کردے۔
وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقٰبِ ؕ
یعنی تم ایک دوسرے پر عیب نہ لگاؤ اور لَمْز (یعنی اشارہ) قول کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور اس کے علاوہ کسی دوسرے طریقہ سے بھی، جبکہ ھَمْز صرف قول کے ساتھ ہوتا ہے۔حضرت سیِّدُنا عبد الملک بن عبد العزیز بن جریج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی ۱۵۰ھ) فرماتے ہیں : ’’ھَمْز آنکھ، منہ اورہاتھ سے ہوتا ہے جبکہ لَمْز صرف زبان سے ہوتا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا لیث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے منقول ہے کہ’’لُمَزَۃ سے مراد وہ ہے جو تیری موجودگی میں تجھ پر عیب لگائے اور ھُمَزَۃ سے مراد وہ ہے کہ جوتیری عدم موجودگی میں تجھ پر عیب لگائے۔‘‘حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد (متوفی ۱۰۴ھ)کا اس آیت ِ مبارکہ ’’وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۣۙ﴿۱﴾ (پ۳۰، الھمزۃ:۱) ترجمۂ کنزالایمان:خرابی ہے اس کے لئے جو لوگوں کے منھ پر عیب کرے، پیٹھ پیچھے بدی کرے۔‘‘ کے تحت فرماتے ہیں کہ’’ ھُمَزۃ سے مراد لوگوں میں عیب لگانے والا ہے اور لُمَزۃ سے مراد وہ ہے جو لوگوں کا گوشت کھاتا (یعنی غیبت کرتا) ہے۔‘‘
نَبْز سے مراد پھینکنا ہے اور لقب سے مراد وہ نام ہے جو مسمّٰی کی بلندی یا پستی کا شعور دلائے یعنی ایک دوسرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع
الترمذی ،ابواب المناقب ،باب مناقب البراء بن مالک ،الحدیث:۳۸۵۴،ص۲۰۴۷،بتغیرٍ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع