30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک شخص نے کہا:’’میں ہر لمحہ اس کے ساتھ رہوں گا۔‘‘ راوی فرماتے ہیں :’’وہ اس کے ساتھ نکل پڑا، جب بھی وہ ٹھہرتا یہ بھی اس کے ساتھ ٹھہر جاتا اور جب وہ تیز چلتا یہ بھی تیز چلنے لگ جاتا، اس شخص کا کہنا ہے کہ’’اس مجاہد کو شدید زخم لگ گیا تو اس نے موت میں جلدبازی کی اور اپنی تلوار زمین پر رکھ کر اس کی نوک سینے کے درمیان رکھی پھر اپنی تلوار پر بوجھ ڈالا اورخود کو قتل کر دیا، وہ شخص میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفیصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی:’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسول (صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہیں۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا:’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے عرض کی : ایک شخص کے متعلق ابھی آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جہنمی ہونے کی پیشین گوئی فرمائی تولوگوں نے اسے بہت بڑا سمجھا تو میں نے کہا: ’’میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔‘‘ لہٰذا میں حقیقت حال جانے کے لئے نکل پڑا میں نے دیکھا کہ اسے شدید زخم لگا تھاجس کی وجہ سے اس نے موت میں جلدی کی اور اپنی تلوار زمین پر رکھ کر اس کی نوک اپنے سینے کے درمیان رکھی پھر اپنی تلوار پر بوجھ ڈالا اور خود کو قتل کر دیا۔‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’بندہ لوگوں کے سامنے جنتیوں جیسے اعمال کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص ظاہراً جہنمیوں جیسے اعمال کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔‘‘ (۱)
تنبیہ:
اس باب میں مذکور آیت ِمبارکہ اور احادیث ِ مبارکہ کی رو سے خودکُشی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور یہ واضح ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں خود اپنا خون بہانے والا بھی داخل ہے جیسے شادی شدہ زانی اور ڈاکو جس کو قتل کرنا ضروری ہو۔ کیونکہ اگرچہ انسان اپنا خون بہا سکتا ہے لیکن پھر بھی اسے اپنا خون بہانا جائز نہیں بلکہ اگر اس نے خون بہا دیا تو یہ اس کے لئے کفارہ نہ ہو گا، کیونکہ کفارہ کا حکم اس پر ہوتا ہے جسے اس کے کسی جرم کی سزا دی گئی ہو مگر جس نے اپنے آپ کو خود سزا دی وہ اس کے معنی میں نہیں جسے سزا دے دی گئی۔
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃخیبر، الحدیث:۴۲۰۳،۴۲۰۷،ص۳۴۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع