30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائے اور ان دونوں الفاظ( یعنی عدوان اور ظلم) کو اس لئے ذکر کیا گیاکیونکہ اگرچہ یہ دو مختلف الفاظ ہیں مگر معنٰی کے اعتبار سے قریب قریب ہیں جیسے’’بُعْدًااورسُحْقًا یعنی رحمت ِ الٰہی سے دوری اور پھٹکار۔‘‘اور جیسے حضرت سیِّدُنا یعقوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا: اِنَّمَاۤ اَشْکُوۡا بَثِّیۡ وَحُزْنِیۡۤ اِلَی اللہِ (پ۱۳،یوسف:۸۶)
ترجمۂ کنز الایمان:میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں۔
جیسے کسی شاعر کا قول ہے:
وَاَلْفَی قَوْلَـھَا کَذِبًا وَمَیْنًا
ترجمہ: اس نے محبوبہ کے قول کو بہت جھوٹا پایا۔
’’عُدْوَان‘‘ کا معنی ہے، حد سے بڑھ جانا اور ’’ ظُلْم ‘‘سے مراد ہے، کسی چیز کو غیرِ محل میں رکھنا ۔
’’نُصْلِیۡہِ نَارًا‘‘ کا معنی ہے کہ ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور اسے اس کی گرمی چکھائیں گے اور’’یَسِیۡرًا‘‘ کا معنیٰ ہے ، آسان۔ (۱)
احادیث ِ مبارکہ میں خودکُشی کی مذمت:
{2}…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرایا او راپنے آپ کو قتل کر دیا وہ جہنم کی آگ میں گرتا رہے گا اورہمیشہ اس میں رہے گا اور جس نے گھونٹ گھونٹ زہر پی کر اپنے آپ کو قتل کیا اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں گھونٹ گھونٹ کر کے پیتا رہے گااورہمیشہ اس میں رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو کسی لوہے (کے آلے) سے قتل کیا وہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ جہنم کی آگ میں اپنے آپ کو اس سے مارتا رہے گااورہمیشہ اس میں رہے گا۔‘‘ (۲)
{3}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے اپنا گلا گھونٹا(یعنی دبایا)وہ جہنم میں بھی اسے گھونٹتارہے گا اور جس نے خود کونیزہ مارا وہ جہنم میں بھی اپنے آپ کونیزہ مارتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی علوم الکتاب،النساء، تحت الآیۃ۳۰،ج۶،ص۳۴۰۔
2…صحیح
البخاری،کتاب الطب،باب شرب السم والدواء بہ…الخ،الحدیث:۵۷۷۸،ص۴۹۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع