30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکم دیا گیا۔ (۱)
چنانچہ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:فَتُوۡبُوۡۤا اِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ ؕ ذٰلِکُمْ خَیۡرٌ لَّکُمْ عِنۡدَ بَارِئِکُمْ ؕ فَتَابَ عَلَیۡکُمْ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ﴿۵۴﴾(پ۱،البقرۃ:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بے شک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔
پس انہوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک ہی لمحے میں 70 ہزار قتل ہو گئے۔ (۲)
آیت ِ مقدَّسہ کے اس حصے ’’وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ‘‘میں اپنے آپ کو قتل کرنے کی طرف اشارہ ہے، لہٰذا یہ شدید وعید اسی پر مرتَّب ہو گی اور(زجاج)کہتاہے کہ اس سے مراد باطل طریقے سے مال کھانا بھی ہے کیونکہ ایک ہی آیتِ مبارکہ میں دونوں کا ذکر ہے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :’’اس سے مراد سورۂ مبارکہ کے شروع سے لے کر اس مقام تک بیان کردہ تمام احکام ہیں جن کی اللہ عَزَّوَجَلَّنے ممانعت فرمائی ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام ابو جعفر محمد بن جریرطَبَری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’اس سے مراد وہ تمام احکام ہیں جن سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے منع فرمایا ہے صرف وہی احکام مراد نہیں جو اس سورت کی ابتدا سے اس مقام تک بیان ہوئے ہیں کیونکہ یہ(یعنی وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ) ایک ایسا کلمہ ہے جس کے ساتھ وعید ملی ہوئی ہے، بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان: ’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرْہًا ؕ(پ۴، النساء:۱۹)ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی۔‘‘سے لے کر یہاں تک وعید ہے، کیونکہ اس کے بعد اس کے علاوہ کوئی وعید نہیں۔‘‘ (۳)
عُدوَان اورظُلْم کا مفہوم :
وعید کو عدوان اور ظلم کے ساتھ مقیَّد کیا گیا ہے تاکہ اس سے بھول چُوک، غلطی اور جہالت سے کیا ہوا فعل نکل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…التفسیرالکبیر، النساء،تحت الآیۃ۲۹،ج۴،ص۵۸، مفھوماً۔
2…تفسیر الطبری،البقرۃ،تحت الآیۃ۵۴، الحدیث:۹۴۰،ج۱،ص۳۲۶۔
3…اللباب فی
علوم الکتاب،النسائ، تحت الآیۃ۳۰،ج۶،ص۳۴۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع