30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَزَّوَجَلَّہر گناہ بخش دے گا سوائے اس شخص کے جو حالت ِکفر میں مرے یا جو مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے۔‘‘ (۱)
{29}…ایک شخص نے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی بارگاہ میں عرض کی: ’’کیا قاتل کے لئے کوئی توبہ ہے؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تعجب بھرے انداز میں فرمایا: ’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ اس نے اپنا سوال دُہرایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسی طرح دو یاتین مرتبہ پوچھا: ’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ پھرارشاد فرمایا: میں نے سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب و سینہ ، فیض گنجینہ، صاحبِ معطر پسینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا:قیامت کے دن مقتول بارگاہِ الٰہی میں یوں حاضر ہو گا کہ ایک ہاتھ میں اپنا سر اوردوسرے ہاتھ میں قاتل کا گریبان پکڑا ہو گا جبکہ اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا یہاں تک کہ وہ عرشِ الٰہی کے پاس پہنچ کر اللہ ربُّ العٰلمین کی بارگاہ میں عرض کرے گا: ’’یہ ہے وہ شخص جس نے مجھے قتل کیا۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّقاتل سے فرمائے گا: ’’ہلاک ہو جا۔‘‘ پھر اُسے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ (۲)
{30}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: بارگاہِ ربُّ العزَّت میں مقتول اپنے قاتل کو پکڑے ہوئے حاضر ہو گا جبکہ اس کی گردن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، وہ عرض کرے گا:’’اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! اس سے پوچھ، اس نے مجھے کیوں قتل کیا۔‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّقاتل سے دریافت فرمائے گا:’’تو نے اسے کیوں قتل کیا۔‘‘ وہ عرض کرے گا:’’میں نے اسے فلاں کی عزت کے لئے قتل کیا۔‘‘ تو اسے کہا جائے گا: ’’عزت تو اللہ عَزَّوَجَلَّہی کے لئے ہے۔‘‘ (۳)
{31}…میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفیصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: صبح کے وقت ابلیس اپنے لشکر پھیلا دیتا ہے اور ان سے کہتا ہے: ’’جس نے آج کسی مسلمان کو ذلیل ورُسوا کیا میں اسے تاج پہناؤں گا۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ایک آ کر کہتا ہے:’’میں ایک شخص پر مُسلَّط رہا یہاں تک کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔‘‘ شیطان جواب دیتا ہے: ’’ہو سکتاہے وہ پھر نکاح کر لے۔‘‘ دوسرا آ کر کہتا ہے: ’’میں ایک آدمی کے ساتھ لگا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنے والدین کی نافرمانی کی۔‘‘ تو وہ کہتا ہے:’’شاید! وہ ان کے ساتھ اچھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن النسائی،کتا ب المحاربۃ،باب تحریم الدم ،الحدیث:۳۹۸۹،ص۲۳۴۹،بتقدمٍ وتاخرٍ۔
2…المعجم الاوسط، الحدیث:۴۲۱۷،ج۳،ص۱۷۰۔
3…المعجم
الاوسط ،الحدیث:۷۶۶،ج۱،ص۲۲۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع