30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{13}…سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں ساری دنیا کا تباہ ہوجانا کسی مومن کے ناحق قتل سے زیادہ آسان ہے۔‘‘ (۱)
{14}…اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’کسی مومن کو قتل کرنے میں اگر تمام زمین وآسمان والے شریک ہو جائیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّاُن سب کو جہنم میں داخل کر دے ۔‘‘ (۲)
{15}…نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک ساری دنیا کا تباہ ہو جانا ناحق خون بہانے سے زیادہ آسان ہے۔‘‘ (۳)
{16}… سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک ساری دنیا کامٹ جاناکسی مسلمان کے (ناحق) قتل سے زیادہ آسان ہے۔‘‘ (۴)
{17}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ باقرینہ ہے:’’کسی مسلمان کا قتل اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک دنیا کے برباد ہونے سے بڑا ہے۔‘‘ (۵)
{18}…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :میں نے سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کودورانِ طواف کعبہ شریف سے ( مخاطب ہو کر)ارشاد فرماتے سنا: ’’تو کتنا اچھا ہے اور تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے! تو کتنا عظیم ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے! مومن کے مال اور خون کی حرمت اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک تیری حرمت سے بھی زیادہ ہے۔‘‘ (۶)
{19}…شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’کسی مومن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابن ماجہ،ابواب الدیات،باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلما،الحدیث:۲۶۱۹،ص۲۶۳۴۔
2…الترغیب والترھیب،کتاب الحدود،باب الترھیب من قتل النفس…الخ،الحدیث:۳۷۱۸،ج۳،ص۲۳۴۔
3…شعب الایمان للبیہقی، باب فی تحریم النفوس والجنایات علیھا،الحدیث:۵۳۴۴،ج۴،ص۳۴۵۔
4…جامع الترمذی،ابواب الدیات،باب ما جاء فی تشدید قتل المؤمن، الحدیث:۱۳۹۵، ص۱۷۹۳۔
5…سنن النسائی،کتاب المحاربۃ ،باب تعظیم الدم ،الحدیث:۳۹۹۵،ص۲۳۴۹۔
6…سنن ابن
ماجہ،ابواب الفتن،باب حرمۃ دم المومن ومالہ،الحدیث:۳۹۳۲،ص۲۷۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع