30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے بڑے گناہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور سود کھانا ہے۔‘‘ (۱)
{7}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’7 کبیرہ گناہوں سے بچو (پھر ان میں سے چند بیان فرمائے): اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی جان کو قتل کرنا اور جنگ سے بھاگ جانا۔‘‘ (۲)
{8}…حضرت سیِّدُنا عمرو بن عا ص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفی صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کرتے سنا: ’’والدین کی نافرمانی، اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی جان کوناحق قتل کرنا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔‘‘ (۳)
{9}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، فیض گنجینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’کبیرہ گناہ 7 ہیں (پھر ان میں سے چند بیان فرمائے): اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی جان کوناحق قتل کرنا اور پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا۔‘‘ (۴)
{10}…تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہلِ یمن کی طرف اپنے مبارک پیغام میں تحریر فرمایا: ’’بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک سب سے بڑا گناہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور کسی مومن کو ناحق قتل کرناہے۔‘‘ (۵)
{11}…حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’مومن اپنے دین کے معاملہ میں ہمیشہ کشادگی میں رہتا ہے جب تک و ہ ناحق خون نہیں بہاتا۔‘‘ (۶)
{12}…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ’’ناحق حرام خون بہانا ہلاک کرنے والے ان امور میں سے ہے جن سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔‘‘ (۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مجمع الزوائد،کتاب الایمان،باب فی الکبائر،الحدیث:۳۸۲،ج۱،ص۲۹۱۔
2…المعجم الکبیر،الحدیث:۵۶۳۶،ج۶، ص۱۰۳۔
3…المعجم الکبیر،الحدیث:۳،ج۱۳،۱۴،ص۶۔
4…المعجم الاوسط،الحدیث:۵۷۰۹،ج۴،ص۲۰۰۔
5…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتاب التاریخ ، باب کتب النبیﷺ، الحدیث:۶۵۲۵،ج۸،ص۱۸۰۔
6…صحیح البخاری،کتاب الدیات،باب قول اللہ تعالی:وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا…الایۃ ،الحدیث:۶۸۶۲،ص۵۷۲۔
7…المرجع السابق ،الحدیث:۶۸۶۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع