30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیگر سابقہ معترضین کے اعتراضات کا جواب بن سکتا ہے اور اس صورت میں وعید کے پور انہ کرنے کا معنی یہ ہو گا کہ اگر معافی وغیرہ کا ثبوت نہ ہو تو اس وقت وہ ترتیب حاصل ہوتی ہے جس پر آیت ِ مبارکہ دلالت کرتی ہے اور اگر معافی کا ثبوت پایا جائے تو وہ ترتیب حاصل نہیں ہوتی، پس اس معنی کے اعتبار سے خلف سے مراد خبر کا پورا نہ ہونا نہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی دی ہوئی خبر کے متعلق پورا نہ ہونے کا وہم بھی نہیں کیا جاسکتا۔
پھر میں نے حضرت سیِّدُنا امام فخر الدین محمد بن عمر رازی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کا کلام دیکھا انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اور ان کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت ِ مبارکہ دو صورتوں میں خاص ہے۔ پہلی یہ کہ قتلِ عمد زیادتی کے بغیر ہو مثلاً قصاص میں کسی کو قتل کرنے سے یہ وعید بالکل نہ پائی جائے گی۔ دوسری یہ کہ ظلم وزیادتی کے ساتھ قتل کرنے والا جب توبہ کر لے تو بھی یہ وعید بالکل نہ پائی جائے گی۔جب ان دونوں صورتوں میں قتلِ عمد کو خاص کیا جا سکتا ہے تو یہ تخصیص اس صورت میں بھی پائی جاسکتی ہے جب مجرم کو (وعید سنانے کے بعد) معاف کردیاجائے اور اس کی دلیل اللہ عَزَّوَجَلَّ کا درج ذیل فرمانِ عالیشان ہے: وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ (پ ۵،النسائ:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کفر کے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔
سوال:علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس کے متعلق جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس میں اختلا ف کا مقام یہ ہے کہ کیاقاتل کی توبہ قبول ہو گی یا نہیں ؟ اور کیا اللہ عَزَّوَجَلَّاسے معاف بھی کرے گا یا نہیں ؟ لہٰذا اس صورت میں مذکورہ جواب کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟
جواب: جب حدیث ِ پاک میں اس کی صراحت موجود ہے تو آیتِ مبارکہ کو بھی اسی معنی پر محمول کرنا ضروری ہے اور مخالفین کی طرف توجہ نہ کی جائے کیونکہ ان کے شبہات کمزور ہیں اور ان کے طریقے ہوا میں اڑنے والے گردو غبار کی مثل ہیں۔ چنانچہ،
{1}…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّدعالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے: ’’7 ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔‘‘ عرض کی گئی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ کیا ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’(۱)اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا (۲)جادو کرنا (۳)کسی جان کو ناحق قتل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع