30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے قائلین پر کی اور ان پر ایسی باتیں لازم کیں جو انہوں نے نہیں کہیں اور نہ ہی ان کے دل میں ایسی باتوں کا خیال کھٹکا بلکہ وہ اس سے بہت زیادہ دور ہیں۔
پھر میں نے حضرت سیِّدُنا قفال عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَلَال(متوفی۳۶۵ھ)کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی تفسیر میں جواب دیتے ہوئے مذکورہ توجیہ کے علاوہ ایک اور توجیہ ذکرکی جو غوروفکر سے معلوم ہوسکتی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’آیت ِ مبارکہ اس پر تو دلالت کرتی ہے کہ قتل کی سزا وہی ہے جو اس میں مذکور ہوئی لیکن اس میں یہ دلیل نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے سزا دے گا بھی یا نہیں ؟ کیونکہ ایک شخص اپنے غلام سے کہتا ہے: ’’تیری سزا تویہ ہے کہ میں تیرے ساتھ ایسا کروں مگر میں ایسانہیں کروں گا۔‘‘
یہ توجیہ اس اعتبار سے ضعیف ہے کہ اس آیت ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ قتلِ عمد کی سزا وہی ہے جو مذکور ہوئی اور کئی آیاتِ مقدّسہ سے ثابت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ مستحقین کو سزا دے گا۔ چنانچہ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
مَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا یُّجْزَ بِہٖ ۙ (پ۵،النساء :۱۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔
وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾ (پ۳۰، الزلزال:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔
اس دلیل کو یہ کہہ کر رد کر دیا گیاہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان میں ’’یُّجْزَ بِہٖ‘‘اور ’’یَّرَہٗ ‘ سے مراد یہ ہے کہ اس کو سزا تب ملے گی جب اس کی معافی پر اس طرح کی دلیل واقع نہ ہو جیسے قرآنِ پاک میں ہے:
وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ (پ ۵،النساء:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کفر کے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔
پس ’’یُّجْزَ بِہٖ‘‘اور ’’یَّرَہٗ ‘‘ کے شرط کی جزا ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ شرط پر مرتب ہے اور مرتب ہونے سے جزا کا واقع ہونا لازم نہیں آتا۔
اسی طرح آیت ِ مبارکہ میں ہمیشہ جہنم میں رہنے کی سزا قتلِ عمد پر مرتب ہے اور اس سے واقع ہونا لازم نہیں آتا، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر آپ کسی کو یہ کہیں کہ ’’اگر آپ میرے پاس آئے تو میں آپ کی عزت وتکریم کروں گا۔‘‘ پس عزت اس کی آمد پر مرتب ہو گی۔ لہٰذا جب وہ آئے گا تو عزت پائی بھی جا سکتی ہے اور نہیں بھی۔
چونکہ یہ قول میرے ابتدائی جواب کے قریب ہے اس لئے یہ حضرت سیِّدُنا
امام واحدیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع