30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور زنا و غیرہ کا ارتکاب کریں گے۔‘‘پھر ارشاد فرمایا:’’تم میں سے جو ان باتوں کو پور اکرے اس کا اجر اللہ عَزَّوَجَلَّکے ذمۂ کرم پر ہے اور جو ان میں سے کسی (گناہ) میں مبتلا ہوا اور اسے دُنیا میں سزا دے دی گئی تو یہ اس کے لئے کفارہ ہو گا اور جس نے ان میں سے کوئی گناہ کیا پھر اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اب اس کی مرضی ہے چاہے تو اُسے معاف کر دے اور چاہے تو عذاب دے۔‘‘ پس تمام صحابۂ کرام عَلَــیْہِمُ الرِّضْوَان نے ان سب باتوں پر آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیعت کی۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا امام واحدی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں : ’’اس آیت ِ مبارکہ کا جواب دینے میں ہمارے اصحاب نے بہت سے طرق اپنائے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کوئی طریقہ اختیار نہیں کیاکیونکہ ان کا کلام تخصیص، مخالفت یاچھپانے کے لئے ہے جبکہ آیت کے الفاظ ان میں سے کسی چیز پر دلالت نہیں کرتے۔‘‘ اور میں دو توجیہات پراعتماد کرتاہوں :
(۱)…مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اجماع ہے کہ یہ آیتِ مبارکہ اس کافر کے متعلق نازل ہوئی جس نے ایک مومن کو قتل کر دیا تھا پھر (امام واحدیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی نے ) گزشتہ واقعہ ذکر کیا۔
(۲)…آیت ِمبارکہ کے الفاظ ’’فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ’’اُسے مستقبل(یعنی آخرت) میں جہنم کی سزا دی جائے گی۔‘‘ اور یہ ایک وعید ہے او روعید کا پور انہ کرناکرم ہے۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا امام فخر الدین محمد بن عمر رازیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے پہلی توجیہ کو اس اعتبار سے ضعیف قرار دیا کہ اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ سبب کے خصوص کا اور اصولِ فقہ میں ایک قاعدہ ہے کہ’’مناسب صفت پر حکم کو مرتَّب کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ صفت اس حکم کے لئے علت ہے۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا (پ۶،المائدۃ:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو۔
اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجْلِدُوۡا کُلَّ وٰحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ ۪(پ۱۸،النور:۲)
ترجمۂ کنز الایمان:جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری ،کتاب الایمان، باب(۱۱)، الحدیث:۱۸،ص۳۔
2…اللباب فی علوم الکتاب، النسائ،تحت الآیۃ:۹۳، ج۶،ص۵۷۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع