30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ اگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے یہ روایت صحیح طور پر ثابت ہو تو اس سے مقصود مبالغہ اور زجر وتوبیخ کرنا اور قتل سے نفرت دِلانا ہے، نیز مذکورہ آیت ِ مبارکہ میں معتزلہ اور ان لوگوں کے لئے کوئی دلیل نہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہے گاکیونکہ یہ کافر قاتل(یعنی قیس بن ضبابہ)کے بارے میں نازل ہوئی۔اور اگریہ مان بھی لیاجائے کہ یہ آیت ِ مبارکہ مومن قاتل کے متعلق نازل ہوئی تو یہ حکم اس کے متعلق ہے جو اجماعی طور پر حرام قتل کو حلال جان کر کرے اور قتلِ حرام کو حلال جاننا کفر ہے۔ جیسا کہ کتاب کے شروع میں گزر چکا ہے۔
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمرو بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ حضرت سیِّدُنا عمرو بن علاء عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّبِّ الْعُلٰی کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی:’’کیا اللہ عَزَّوَجَلَّوعدہ خلافی فرمائے گا؟‘‘ آپ نے جواب دیا:’’نہیں۔‘‘ تو انہوں نے دوبارہ عرض کی: ’’کیا اللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ ارشاد نہیں فرمایا:’’ وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا…الایۃ‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا:’’اے ابو عثمان! کیا تم عجم سے آئے ہو؟کیونکہ اہلِ عرب وعید کے پورا نہ کرنے کو وعدہ خلافی یا برائی شمار نہیں کرتے بلکہ وعدہ پورا نہ کرنے کو وعدہ خلافی اور برا سمجھتے ہیں۔‘‘ اور پھر یہ شعر پڑھا:
وَاِنِّیْ وَاِنْ اَوْعَدْتُہٗ اَوْ وَعَدْتُہٗ لَمُخْلِفُ اِیْعَادِیْ وَمُنْجِزُ مَوْعِدِیْ
ترجمہ:بلاشبہ اگرمیں اسے کوئی دھمکی دوں تواس کو پورا کرنے والا نہیں لیکن اگر کوئی وعدہ کروں تو اس کو پورا کرنے والا ہوں۔ (۱)
شرک کے علاوہ کوئی گناہ جہنم میں ہمیشہ رہنے کا موجب نہیں۔اس پر دلیل اللہ عَزَّوَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ(پ۵،النساء :۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔
حضور نبی ٔاکرم،نورمجسم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان بھی اس پر دلیل ہے کہ ’’جو اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو۔‘‘ (۲)
نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لَیْلَۃُ الْعَقَبَہ میں اپنے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے اس بات پر بیعت لی کہ وہ نہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں گے اور نہ ہی چوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… اللباب فی علوم الکتاب، النساء ، تحت الآیۃ:۹۳،ج۶،ص۵۷۳، مفہوماً۔
2…صحیح
البخاری،کتاب الرقاق،باب قول النبی:ما یَسُرُّنی اَنَّ عِنْدی مِثْلَ اُحُدٍ ہٰذا
ذَھَبًا، الحدیث:۶۴۴۴،ص۵۴۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع