30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’یہ حکم زمانۂ جاہلیت میں تھا۔ اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین نے قتل اور زنا کا ارتکاب کیا تھا وہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آئے اورکہنے لگے: ’’جس دین کی طرف آپ بلاتے ہیں وہ بہت اچھا ہے، مگر ہمیں یہ بتائیے کہ ہمارے گناہوں کا کفارہ کیا ہوگا۔‘‘ تو یہ آیاتِ طیِّبات ’’وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَسے اِلَّا مَنۡ تَابَ(پ۱۹،الفرقان:۶۸تا۷۰)‘‘ تک نازل ہوئیں یہ حکم مشرکین کے لئے تھا۔ جبکہ سورہ ٔنساء کی مذکورہ آیت’’ وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا…الایۃ(پ۵،النساء:۹۳)‘‘ اس مسلمان کے متعلق ہے، جو اسلام اور اس کے احکام کو جانتے ہوئے کسی کو قتل کرے تو وہ جہنمی ہے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :’’جب سورۂ فرقان کی مذکورہ آیاتِ مبارکہ نازل ہوئیں تو ہم ان میں موجود نرم حکم سے متعجب ہوئے، پس ہم 7 مہینے اسی حکم پر قائم رہے، پھر سخت حکم والی آیت نازل ہوئی یعنی نرم حکم کے بعد سورہ ٔنساء کی آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی تو نرم حکم منسوخ(یعنی ختم) ہو گیا۔‘‘
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :’’سورۂ فرقان کی آیت مکی اور سورہ ٔنساء کی آیت مدنی ہے لیکن ان میں کوئی بھی منسوخ نہیں۔‘‘ (۲)
اہلسنّت وجماعت کا مؤقف:
اہلسنّت وجماعت مطلقًا قاتل کی توبہ قبول ہونے کے قائل ہیں۔ کیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صٰلِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی ﴿۸۲﴾(پ۱۶،طٰہٰ:۸۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔
دوسرے مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ(پ۵،النساء :۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔
اہلسنّت وجماعت حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی روایت کا جواب یہ دیتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب ما لقی النبی…الخ،الحدیث:۳۸۵۵،۴۷۶۴،ص۳۱۳، ۳۰۴، مفھوماً۔
2…تفسیرالبغوی،النسائ،تحت الایۃ۹۳،ج۱،ص۳۷۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع