30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قتل کی اقسام:
قتل کی تین اقسام ہیں : (۱)…قتلِ عمد (۲)…قتلِ خطا اور (۳)…شبہ ِ عمد۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سورۃُ النساء کی مذکورہ آیت’’وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا‘‘ میں قتلِ عمد اور اس سے پہلی آیت ِ مبارکہ میں قتلِ خطا کا ذکر فرمایا اور شبہ عمد کا ذکر نہیں فرمایا۔
اسی وجہ سے اس کے اثبات میں ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) نے اکثرعلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی طرح اسے ثابت کیا ہے جبکہ حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق(متوفی ۱۷۹ھ) اورعلماکے ایک گروہ نے اس کی نفی کی ہے۔
فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’جسے کسی ایسی چیز سے مثلاً دانتوں سے کاٹ کر یا تھپڑ اور کوڑا مار کر قتل کیا گیا جس سے عموماً قتل نہیں کیا جاتا تو یہ قتلِ عمد ہے اور اس میں قصاص ہے اور تمام ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اتفاق ہے کہ قتلِ عمد کی دیت جرم کرنے والے کے مال سے لی جائے گی اور قتلِ خطا میں دیت وارثوں پر ہو گی۔ جبکہ شبہ عمد کی دیت میں ائمہ کا اختلاف ہے، ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ جرم کرنے والے پر ہو گی جبکہ اکثر فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک قاتل کے وارثوں پر ہو گی۔{احناف کا مؤقف صفحہ326 پرحاشیہ میں بیان ہو چکا ہے۔}
آیت ِ مبارکہ کا حکم:
جان لیجئے! اس آیت ِ مبارکہ کے حکم میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اختلاف ہے۔ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا گیا: ’’کیا اللہ عَزَّوَجَلَّنے سورۂ فرقان میں یہ نہیں فرمایا:
وَ لَا یَقْتُلُوۡنَ النَّفْسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوۡنَۚ وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾ یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ۶۹﴾ اِلَّا مَنۡ تَابَ(پ۱۹، الفرقان:۶۸تا۷۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا، بڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا مگر جو توبہ کرے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع