30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس طرح وہ اسے روکنے اور قتل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اسی طرح جب انہیں معلوم ہو کہ ایک شخص دوسرے کو ظلم سے قتل کرنا چاہتا ہے توان پر لازم ہے کہ وہ اس کا دفاع کرنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح جس نے ظلماً کسی کو قتل کیا اس نے شر، شہوت اور غضب کے اسباب کو اسبابِ طاعت پر ترجیح دی اور جس شخص کی حالت ایسی ہو کہ اگر ہر انسان اس سے اپنا مطلوب ومقصود حاصل کرنے کے متعلق جھگڑا کرے اور اس کے قتل پر قادر ہو تو اُسے قتل کر دے۔
’’حدیث کے مطابق نیک کاموں میں مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ تو اسی طرح برے کاموں میں اس کی نیت اس کے عمل سے بری ہو گی۔‘‘ (۱)
پس اس اعتبار سے جس نے کسی انسان کو ظلماً قتل کیا گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔ چنانچہ،
قتلِ انسان کے متعلق اقوالِ صالحین:
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’جس نے کسی نبی یا عادل امام کو قتل کیا گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا اور جس نے کسی کی پشت پناہی کی گویا اس نے تمام لوگوں کوزندہ کیا۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَـــیْہِرَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں : ’’جس نے کسی حرمت والی جان کو قتل کیا وہ اسے قتل کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا جیساکہ اگر وہ تمام لوگوں کو قتل کرتا تو اس میں جاتا اور جس نے ایک انسان کو زندہ کیا یعنی اس کو قتل کرنے سے محفوظ رہا گویا وہ تمام لوگوں کو قتل کرنے سے محفوظ رہا۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جہاں قتلِ انسانی سے محفوظ رہنے پر اجرعظیم عطا فرمایا وہاں اس گناہ میں مبتلا ہونے کو بھی بہت بڑا قرار دیاہے۔‘‘ (۴) یعنی جس نے کسی انسان کو ظلماً قتل کیا گویا اس نے گناہ کے اعتبار سے تمام لوگوں کو قتل کیا کیونکہ اب وہ اس سے محفوظ نہیں اور جس نے کسی ایک انسان کو زندہ کیا اور اسے قتل کرنے سے بچا رہا گویا اس نے ثواب کے اعتبار سے تمام لوگوں کو زندہ کیا کیونکہ وہ سب اس سے محفوظ ہیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…التمہیدلابن عبد البر،مالک عن محمدبن المنکدر،تحت الحدیث:۲۷۳/۴،ج۵،ص۷۸،بتغیرٍقلیلٍ۔
2…تفسیر الطبری ،المائدۃ ،تحت الآیۃ۳۲،الحدیث:۱۱۷۷۴،ج۴،ص۵۴۱۔
3…المرجع السابق ،الحدیث:۱۱۷۷۶،ص۵۴۲۔
4…المرجع
السابق،الحدیث: ۱۱۸۰۲،ص۵۴۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع