30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مستفید ہونے کا تقاضاکرتا ہے اور دواعی میں وقوعِ تسلسل ممتنع ہے بلکہ ان کا پہلے داعی پر ختم ہونا واجب ہے جو بندے میں پیدا ہوا اوراس کا پیدا ہونا بندے کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے، پس جب سب کچھ اس کی طرف سے ہے تو ثابت ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے احکام اور افعال کا بندوں کے مصالح کی رعایت کے ساتھ معلل ہوناممتنع ہے۔یہاں آیت ِ مبارکہ کا ظاہری معنی مراد نہیں بلکہ یہ تو ان کے لئے درج ذیل حکم مشروع کرنے کی حکمت ہے۔ چنانچہ، ارشاد فرمایا: قُلْ فَمَنۡ یَّمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْـًٔا اِنْ اَرَادَ اَنۡ یُّہۡلِکَ الْمَسِیۡحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ وَمَنۡ فِی الْاَرْضِ جَمِیۡعًا ؕ(پ۶،المائدہ:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرما دو پھر اللہ کا کوئی کیا کر سکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو۔
یہ آیت ِ مبارکہ نص ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہر چیزاچھی ہوتی ہے اس کی تخلیق اور حکم مصالح کی رعایت پر بالکل موقوف نہیں۔
اَوْ فَسَادٍ کی وضاحت:
جمہورعلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے ’’بِغَیۡرِ نَفْسٍ‘‘پر اس کا عطف فرمایاہے یعنی ’’اَوْ بِغَیْرِ فَسَادٍ‘‘یہاں فساد کرنے والے کو قتل کرنا مراد نہیں جیسے قصاص میں یا کافر، شادی شدہ زانی اور ڈاکو وغیرہ کو قتل کرنا( کیونکہ ان کے قتل کا حکم توشریعت نے دیا ہے)۔
ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے:
ایک انسان کے قتل کو تمام انسانوں کے قتل کی مثل قرار دینے کی وجہ اس
معاملے کو انتہائی بڑا قرار دینے میں مبالغہ کرنا اور انسان کی عظمت ِ شان بیان
کرنا ہے یعنی جس طرح پوری انسانیت کا قتل ہر ایک کے نزدیک بہت برا فعل ہے اسی طرح
ایک شخص کا قتل بھی سب کے نزدیک بہت برا ہونا چاہئے۔ ان دونوں یعنی انسان اور
انسانیت کے قتل کے مشترک ہونے سے مراد بڑا ہونے میں ایک جیسا ہونا ہے نہ کہ مقدار
میں ، کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ دو اشیا ء میں باہم مشابہت ہر اعتبار سے ان کی برابری
کا تقاضا کرے۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ کوئی شخص انہیں قتل کرنا چاہتا ہے تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع