30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی اسے ندامت و حسرت اور غم لاحق ہو گئے اور اب وہ ان سے چھٹکارا دِلانے والی کوئی چیز بھی نہیں پاتا۔ اسی طرح ظلم سے قتل کرنے والے ہر شخص کوایسا خسارہ اور ندامت ہو گی کہ جس سے نجات دِلانے والا کوئی نہیں ہو گا۔
قصاص کا حکم اکثر امتوں میں جاری تھا مگر اسے بنی اسرائیل کے ساتھ خاص کرنے کا سبب یہودیوں پر سختی کرنا اور ان کے برے خسارے کو بیان کرنا ہے کیونکہ انہیں قابیل کے خسارے و ندامت کے متعلق معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم تھا کہ اس کا بھائی نبی نہیں تھا، اس کے باوجود انہوں نے انبیاءے کرام اور رسولوں عَلَـــیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کرنے کی جسارت کی اور یہ فعل ان کے دلوں کی انتہائی سختی اور اطاعت ِ خداوندی سے دوری پر دلالت کرتا ہے۔
قصۂ قابیل و ہابیل بیان کرنے کاسبب:
بنی اسرائیل یعنی یہودیوں نے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو جان سے مارنے کا عزم کر رکھا تھا، ان واقعات کوذکر کرنے کا مقصد ہمارے نبی ٔ کریم، رء ُوف رَّحیم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تسلی دینا ہے اس لئے بنی اسرائیل کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔
افعالِ الٰہی کے مُعَلَّل نہ ہونے میں اختلاف:
اللہ عَزَّوَجَلَّکے مذکورہ فرمانِ عالیشان ’’مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ‘‘ سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے افعال مُعَلَّل ہوتے ہیں (یعنی ان کی کوئی علت ہوتی ہے )۔‘‘ اور معتزلہ کہتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّکے افعال بندوں کے مصالح کے ساتھ مُعَلَّل ہوتے ہیں ، پس اس کا کفر اورلوگوں کی بری حرکتوں کو پیدا کرنا اور ان سے ان کے واقع ہونے کا ارادہ کرنا ممتنع ہے کیونکہ اس طرح وہ ان کے مصالح کی رعایت کرنے والا نہ ہو گا۔‘‘
احکامِ الٰہی کی تعلیل محال ہونے کے قائلین اس کا ایک جواب یہ دیتے
ہیں کہ اگر علَّت قدیم ہو تو معلول کا قدیم ہونا لازم آئے گا یا اگر علت حادث ہو
تو اس کا کسی دوسری علت کے ساتھ معلل ہونالازم آئے گا جس سے علتوں کا تسلسل لازم
آئے گا، دوسرا جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر وہ کسی دوسری علت کے ساتھ معلل ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف نسبت
کے اعتبار سے اس علت کا وجود اور عدمِ وجود برابر ہو تو اس کا علت ہونا ممتنع ہو
گا یا اگر اس کا وجود اور عدمِ وجود برابر نہ ہو توان دونوں میں سے ایک بدرجۂ
اَولیٰ ممتنع ہو گا اور یہ دواعی (یعنی اسباب) پر اس فعل کی اولویت
سے اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع