30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ گناہوں کی تصریح کرتا ہے۔ پس انہوں نے فرمایا:’’حضرات شیخین(یعنی امام نووی وامام رافعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا) نے صَاحِبُ الْعُدَّۃکے قول کو برقرار رکھا جس میں انہوں نے کچھ گناہوں کوصغیرہ قرار دیا مگر ان کی یہ بات محلِ نظرہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اجنبیہ اور امرد کی طرف دیکھنا جائز نہیں۔ اور اس میں بھی غور وفکر کی ضرور ت ہے پس حضرت سیِّدُنا ابو الحسن علی بن محمد ماوردیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی ۴۵۰ھ) وغیرہ نے مطلق فرمایا ہے کہ’’بغیر حاجت کے شہوت کے ساتھ قصداً دیکھنا فسق ہے اوردیکھنے والے کی گواہی مردود ہے۔ اسی طرح اگر بغیر شہوت کے فضول نظر ڈالے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔‘‘ امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)مزید فرماتے ہیں : ’’علمانے اس مؤقف کو اختیار کیا ہے کہ جب اس کی نیکیاں زیادہ ہوں تو صرف اس عمل سے فاسق نہ ہو گا جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں۔ یہ اس درجے کا کبیرہ گناہ نہیں جو عدالت(۱)سے نکال دیتا ہے۔ ہاں ! اگر فتنے کا خوف ہو پھر نظر ڈالے تو اس صورت میں اس کا کبیرہ ہونا واضح ہے۔‘‘
میں نے بعض متاخرین علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو دیکھا کہ انہوں نے میرے ذکر کردہ مؤقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’عورت اورامرد کی طرف شہوت سے دیکھنا زنا ہے کیونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ،
{1}…’’آنکھوں کا زنا دیکھنا، زبان کا زنا بولنا، ہاتھ کا زنا پکڑنا، پاؤں کا زنا چلنا ہے اور نفس(زنا کی )تمنا اور خواہش کرتا ہے۔‘‘ (۲)
اسی لئے صالحین نے امردوں (یعنی جنہیں دیکھ کرشہوت آئے ان ) کو دیکھنے، ان سے خلط ملط ہونے اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے بچنے کے متعلق مبالغہ فرمایا۔ حضرت سیِّدُنا حسن بن ذکوان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:’’امیروں کی اولاد کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ ان کی صورتیں کنواری عورتوں کی صورتوں جیسی ہوتی ہیں اور وہ عورتوں سے بڑھ کر فتنہ میں ڈالنے والے ہیں۔‘‘
ایک تابعی فرماتے ہیں :’’میں نوجوان سالک (یعنی عابد و زاہد نوجوان )کے ساتھ بے ریش لڑکے کے بیٹھنے کو سات درندوں سے زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں۔‘‘ مزید فرماتے:’’کوئی شخص ایک مکان میں کسی امرد کے ساتھ تنہا رات نہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…عدالت کا لغوی معنی استقامت ہے اور شرعی معنی راہ حق پر استقامت اور ممنوع باتوں سے بچناہے ۔ (التعریفات۱۰۵)
2…صحیح مسلم ،کتاب القدر ،باب قدر علی ابن ادم…الخ ،الحدیث:۶۷۵۳،۶۷۵۴،ص۱۱۴۰،۱۱۴۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع