30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{36}…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ارشاد فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، منزہ عن الْعُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔‘‘ (۱)
تنبیہ:
مذکورہ 5 گناہوں میں سے پہلے کو کبیرہ گناہ قرار دینا واضح ہے کیونکہ یہ آقا پر ظلم کرناہے بلکہ بھگوڑے غلام کے متعلق بیان کردہ گزشتہ احادیث ِ مبارکہ بھی اس گناہ کو شامل ہیں کیونکہ آقا کی لازم خدمت نہ کرنا اور اس میں کوتاہی کرنا معناً بھاگنے کی طرح ہے۔ عنقریب ظلم کے متعلق احادیث ِ مبارکہ میں ایسی باتیں آئیں گی جو اس گناہ کوبھی شامل ہوں گی اور دیگر 4 گناہوں کو کبیرہ میں شمار کرنا میری ذکر کردہ احادیث ِ طیِّبہ سے واضح ہے حتی کہ جانوروں کو لڑانے کا کبیرہ گناہ ہونا بھی بالکل واضح ہے کیونکہ یہ بھی عذاب دینے میں داخل ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) ارشاد فرماتے ہیں : ’’ایذا نہ دینے والی بلی کو جان بوجھ کر قتل کرنا بھی کبیرہ گناہوں میں داخل ہے، کیونکہ ایک عورت بلی کی وجہ سے جہنم میں جا پہنچی اور بلی کے حکم میں وہ جانور بھی داخل ہیں جو اس جیسے ہوں۔‘‘
گناہِ کبیرہ ہونے کے لئے قتل شرط نہیں بلکہ شدید ایذا شرط ہے جیسے دردناک ضرب لگانا۔ پھر میں نے دیکھا کہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے واضح طور پر لکھا ہے کہ بلا سبب حیوان کو تکلیف دینا، غلام کو خصی کرنا اور ظلم و زیادتی کرتے ہوئے اُسے اذیت پہنچانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور دوسروں کو غلام پر قیاس کیا جائے گا، ہاں ! کسی چھوٹے جانور کو اس لئے خصی کرنا جائز ہے تاکہ وہ موٹا ہو اور اس کا گوشت اچھا ہو، لیکن غلاموں اور چوپاؤں سے برا سلوک کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
جب میں اس بحث سے فارغ ہوا تو مجھے اس موضوع پر تفصیلی کلام ملا لہٰذا میں نے مذکورہ بحث پر زائد کلام کا خلاصہ بیان کرنا مناسب سمجھا اگرچہ اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ جو کلام مجھے ملا اس کا عنوان یہ ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود،کتاب الجھاد،باب فی التحریش بین البھائم،الحدیث:۲۵۶۲،ص۱۴۱۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع