30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرتھا اس نے عرض کی: ’’میرے کچھ غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے، خیانت کرتے اور میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں انہیں گالیاں دیتا اور مارتا ہوں ، بتائیے! میں ان کے ساتھ کیسا ہوں ؟‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب قیامت کا دن ہو گا توجو انہوں نے تم سے خیانت کی، تمہاری نافرمانی کی اور تم سے جھوٹ بولا پھر تم نے انہیں جوسزا دی سب کا حساب ہوگا، اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں کے برابر ہوئی تو معاملہ برابر ہو جائے گا یعنی نہ تم پر کچھ وبال ہو گا اور نہ ہی ان پر کوئی گرفت، لیکن اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو ان کے لئے تم سے زیادتی کابدلہ لیا جائے گا۔‘‘ پس وہ شخص ایک طرف ہٹ کر فریاد کرنے اور رونے لگا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ مبارک فرمان نہیں پڑھا: وَنَضَعُ الْمَوٰزِیۡنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْـًٔا ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیۡنَابِہَا ؕ وَکَفٰی بِنَا حٰسِبِیۡنَ ﴿۴۷﴾(پ۱۷، الانبیاء:۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہو گا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو۔‘‘
تو اس نے عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں اپنے اور ان کے لئے علیحدہ ہو جانے سے بہتر کوئی صورت نہیں پاتا،لہٰذا میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ تمام کے تمام آزاد ہیں۔‘‘ (۱)
{27}…سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس نے کسی کو ظلماً ایک کوڑا مارا توبروزِ قیامت اس سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔‘‘ (۲)
{28}… محمد بن عبد الرحمن کی دادی سے منقول ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست ِ اقدس میں مسواک تھی، آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی یامیری خادمہ کو آواز دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی، ابواب التفسیرالقرآن، باب ومن سورۃ الانبیاء، الحدیث:۳۱۶۵،ص۱۹۷۳۔
مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیمۃ،باب الحساب والقصاص،الفصل الثالث،الحدیث:۵۵۶۱،ج۲،ص۳۱۷۔
2…المعجم
الاوسط،الحدیث:۱۴۴۵،ج۱،ص۳۹۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع