30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں کہ جن کی نماز ان کے سروں سے تجاوز نہیں کرتی: (۱)وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگ گیا یہاں تک کہ لوٹ آئے اور (۲)وہ عورت جس نے اپنے شوہر کی نافرمانی کی یہاں تک کہ لوٹ آئے۔‘‘ (۱)
{5}…تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’3 شخص ایسے ہیں جن کی نماز ان کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتی: (۱)…بھاگا ہوا غلام یہاں تک کہ لوٹ آئے (۲)…جو عورت اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس پرناراض ہو اور (۳)…کسی قوم کا ایسا امام جسے وہ ناپسند کرتے ہوں۔‘‘ (۲)
{6}…حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جس بھاگے ہوئے غلام کو موت آجائے وہ جہنم میں داخل ہو گا اگرچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں قتل کر دیا جائے۔‘‘ (۳)
{7}…سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ3 افراد کی نہ تو کوئی نماز قبول فرماتا ہے اور نہ ہی ان کی کوئی نیکی آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے: (۱)…نشے میں مدہوش انسان یہاں تک کہ ہوش میں آ جائے (۲)…ایسی عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہو اور (۳)…بھاگا ہواغلام یہاں تک کہ واپس لوٹ کر اپنا ہاتھ اپنے مالکوں کے ہاتھ میں دے دے۔‘‘ (۴)
{8}…اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’3 شخص ایسے ہیں جن سے کوئی سوال نہ ہو گا (یعنی انہیں بغیر حساب وکتاب جہنم میں داخل کر دیا جائے گا): ’’(۱)…وہ شخص جو جماعت سے علیحدہ ہوا اور اپنے امام کی نافرما نی کی (۲)…وہ غلام جو اپنے آقا سے بھاگ کر مر گیا تو وہ نافرمان ہو کر مرا اور (۳)…جس عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس(کے شوہر) نے اس کی ضروریاتِ دُنیا پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔‘‘ اور مزید 3 شخص ایسے ہیں جن سے کوئی سوال نہ ہو گا : ’’(۱)…وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط،الحدیث:۳۶۲۸،ج۲،ص۳۹۳۔
2…جامع الترمذی،ابواب الصلاۃ،باب ماجاء (فی) من ام قوما وہم لہ کارہون،الحدیث:۳۶۰،ص۱۶۷۶۔
3…المعجم الاوسط،الحدیث:۹۲۳۲،ج۶،ص۴۰۸۔
4…المعجم الاوسط،الحدیث:۹۲۳۱،ج۶،ص۴۰۸۔
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب الاشربۃ ،باب آداب الاشربۃ، الحدیث:۵۳۳۱،ج۷،ص۳۷۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع