30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر245: اَمْرَد کو دیکھنا(جبکہ شہوت اورفتنے کا خوف ہو)
کبیرہ نمبر246: اَمْرَد کو چُھونا(جبکہ شہوت اورفتنے کا خوف ہو)
کبیرہ نمبر247: اَمْرَد کے سا تھ تنہائی اختیار کرنا
(جبکہ شہوت اورفتنے کا خوف ہو)
ان تین کو بھی سابقہ تینوں گناہوں کے طریقہ پر مبنی ہونے کی وجہ سے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا ظاہر ہے کیونکہ امرد گناہ میں مبتلا ہونے کا بڑا سبب ہے۔ زنا، لواطت اور اسی طرح ان کے مقدمات کو علیحدہ علیحدہ کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام شہاب الدین اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)فرماتے ہیں : ’’حضرات شیخین(یعنی امام نووی وامام رافعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا) نےصَاحِبُ الْعُدَّۃ کے قول کو برقرار رکھا جس میں انہوں نے کچھ گناہوں کوصغیرہ قرار دیا۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اجنبیہ اور امرد کی طرف دیکھنا جائز نہیں اورحضرت سیِّدُنا ابوحسن علی بن محمد ماوردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی ۴۵۰ھ) وغیرہ نے مطلق فرمایا ہے کہ’’بغیر حاجت کے شہوت کے ساتھ قصداً دیکھنا فسق ہے اور دیکھنے والے کی گواہی مردود ہے۔ اسی طرح اگر بغیر شہوت کے فضول نظر ڈالے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’اس مؤقف کواختیار کیا گیا ہے کہ جب اس کی نیکیاں زیادہ ہوں تو صرف اس عمل سے فاسق نہ ہو گا جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں۔ پس یہ کبیرہ گناہ نہیں جو بندے کاعادل ہوناختم کردے ۔ ہاں ! اگر فتنے کا خوف ہو پھر نظر ڈالے تو اس صورت میں اس کا کبیرہ ہونا واضح ہے۔‘‘
یہ آخری قول میرے مؤقف کے مطابق ہے اور میں نے یہاں دونوں اقوال، جن میں سے ایک میں اسے کبیرہ اور دوسرے میں غیرکبیرہ قرار دیا گیا تھا، میں تطبیق دی ہے۔ پس اس میں غور کروکیونکہ یہ انتہائی اہم بات ہے۔ میں نے ان گناہوں کو اور گزشتہ گناہوں کو شہوت اور فتنہ کے خوف کے ساتھ مقید کیا تاکہ یہ چھ گناہ، کبیرہ گناہوں کے قریب ہو جائیں ، یہ قیدلگانے کی وجہ یہ نہیں کہ حرمت اس کے ساتھ مقید ہے اور اصح قول یہ ہے کہ حتی الامکان فساد کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے عورت اور امرد کے ساتھ یہ افعال کرنا بغیر شہوت کے بھی حرام ہے اگرچہ فتنہ سے امن میں ہو ۔ کیونکہ فتنے کا اندیشہ نہ ہونے کے باوجوداگر دیکھنا جائز ہوتب بھی یہ برائی اور فساد کی طرف لے جاتا ہے۔ پس شریعت کی خوبیوں کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع