30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ اسے اساء َت (یعنی برائی) کے ساتھ خاص کیا جائے۔‘‘ جبکہ بعض دیگر کہتے ہیں کہ’’اسے برائی کے ساتھ خاص کرنا مناسب نہیں بلکہ اس سے احسان کا ترک کرنا مراد لینا چاہئے کیونکہ احادیث ِ مبارکہ صلہ رحمی کا حکم دینے اور قطع رحمی سے منع کرنے والی ہیں اور ان دونوں کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ، جبکہ صلہ سے مراد کسی قسم کا احسان کرنا ہے اور قطع رحمی اس کی ضد ہے یعنی احسان نہ کرنا۔‘‘
البتہ! آپ کو اختیار ہے کہ ان دونوں تعریفوں میں سے ہر ایک پر اعتراض کر سکتے ہیں۔
رہی پہلی تعریف تو اگر اساء َت سے مراد ایسا فعل ہو جو مکروہ اور حرام کو شامل ہو یا جو حرام کے ساتھ خاص ہو اگرچہ صغیرہ ہی کیوں نہ ہو تو یہ امام بلقینیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکے نافرمانی کے متعلق بیان کئے گئے اس قاعدے کی نفی کرتا ہے کہ ’’اگر اس نے اپنے والدین میں سے کسی کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ اگر وہ اجنبی کے ساتھ کرتا تو یہ گناہِ صغیرہ اور حرام ہوتا جبکہ والدین میں سے کسی کی ساتھ ایسا سلوک کرناکبیرہ گناہ ہو جائے گا۔‘‘ جب نافرمانی کا قاعدہ یہ ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ والدین کا حق باقی قریبی رشتہ داروں سے زیادہ ہوتا ہے، نیز نافرمانی قطع رحمی کے علاوہ ہوتی ہے جیسا کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا کلام وضاحت کرتا ہے اور حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ)کا قطع رحمی کو کبیرہ قرار دینے میں توقف کرنا بھی معلوم ہو چکا ہے تو اب ضروری ہے کہ قطع رحمی پر ایسے کبیرہ گناہ ہونے کا حکم لگایا جائے جو نافرمانی سے بھی زیادہ ایذا کا باعث ہو تا کہ والدین کے مقام ومرتبہ کی بلندی ظاہر ہو اور حضرت سیِّدُنا امام ابو زرعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہکے قول کے اعتبار سے دونوں کا ایک جیسا ہونا لازم آتا ہے بلکہ قطع رحمی میں نافرمانی سے کم ایذا پائی جاتی ہے اس پر بنا کرتے ہوئے کہ اُن کے کلام میں اساء َت اس کے فعل کو شامل ہے پس اس لحاظ سے دیگر رشتے دار والدین سے جدا ہو جائیں گے اس اعتبار سے کہ مطلق ایذا ان کے حق میں کبیرہ گناہ ہے جبکہ والدین کے حق میں کبیرہ نہیں۔ حضرت سیِّدُنا امام ابو زرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کا مذکورہ کلام علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے واضح مؤقف کے خلاف ہے لہٰذا اس کی تردید واجب ہے تاکہ مذکورہ بات لازم نہ آئے۔
اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ نافرمانی کے متعلق علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا کلام مذکورہ مؤقف کی نفی کرتا ہے تو دیگر کا یہ مؤقف کہ قطع
رحمی سے مراد احسان نہ کرنا ہے۔ تو یہ بھی پہلے مؤقف سے رد کر دیا گیا اور اب ان
کے کلام اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع