30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ’’صاحب ِ شامل‘‘ کے اس قول پر کیا کہ’’قطع رحمی کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ اور حضرت سیِّدُنا امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) کے ان کے اس توقف کو برقرار رکھنے کی بھی تردید ہوگئی۔ حضرت سیِّدُناامام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) نے دیگر مقامات پر ان کے توقف پر اعتراض کیالیکن اس توقف پر کوئی اعتراض نہیں کیا حالانکہ اس کی تردید زیادہ ضروری تھی۔ قطع رحمی کرنے والے کی مذمت میں مذکورہ صریح احادیث ِمبارکہ اوردوسری آیت ِطیبہ کے باوجود اس میں کیسے توقف کیا جا سکتا ہے؟ نیز حضورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مذکورہ احادیث ِ مبارکہ میں سے پہلی حدیث ِ پاک میں ہی قطع رحمی کرنے والے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے تعلق توڑنے والا قرار دیا ہے اور آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان کہ’’ قطع تعلقی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔‘‘اورقطع رحمی سے جلدی کسی گناہ کی سزا نہیں ملتی اور یہ کہ اس(یعنی قطع رحمی کرنے والے) کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا وغیرہ۔ لہٰذا اس میں توقف کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ پھر میں نے حضرت سیِّدُنا علامہ جلال بلقینیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکا مؤقف دیکھا، انہوں نے فرمایا: ’’قطع رحمی کے کبیرہ گناہ ہونے میں توقف نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایسا(یعنی قطع تعلقی ) کرنے والے کے لعنتی ہونے پر قرآنِ کریم میں واضح نص موجود ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام باقر عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر فرماتے ہیں : میرے والد ِ گرامی حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ دوستی نہ کرو کیونکہ میں نے قرآنِ پاک میں اسے 3 جگہوں پر ملعون پایا۔‘‘ اور پھر انہوں نے سابقہ 3 آیات پڑھیں یعنی قتال والی آیت ِ کریمہ میں صریح لعنت ہے، سورۂ رعد کی آیت ِ مبارکہ میں عمومی طور پر لعنت ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا اس میں رحم (یعنی رشتہ داری ) وغیرہ بھی شامل ہیں اور سورۂ بقرہ کی آیت ِمقدسہ میں لازمی طور پرلعنت ثابت ہے کیونکہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو خسارے کو لازم ہیں۔ حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۶۷۱ھ) نے اپنی تفسیر میں صلہ رحمی کے واجب اور قطع رحمی کے حرام ہونے پر امت کا اجماع نقل فرمایا ہے۔
سوال: قطع رحمی سے کیا مراد ہے؟
جواب:اس میں اختلاف ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام ابو زرعہ ولی بن عراقی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاقِیفرماتے ہیں : ’’بہتر یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع