30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب یہ صورت حاکم کے سامنے آئی اور اس کا نظریہ بیٹے کے مطالبے کی وجہ سے باپ کو قید نہ کرنے کا تھا تو وہ بیٹے کی بات نہ سنے گا اور مطالبہ کرنے والا بیٹا اگر(حق کے مطالبے کی وجہ سے باپ کو قید کرنے کے)جواز کا اعتقاد رکھتا ہے تو وہ بھی نافرمان نہ کہلائے گا۔ لیکن اگر اس کے برعکس ہو یعنی بیٹے کا نظریہ تو عدمِ جواز کا ہو اور اس کے باوجود وہ حاکم کے پاس مقدمہ دائر کر دے (اور حاکم اس کے باپ کو جوازِ قید کا نظریہ رکھنے کی وجہ سے قید کر دے تو) یہ ایسے ہی ناجائز ہو گا جیسے حاکم سے کسی ایسے دوسرے شخص کو قید کرنے کا مطالبہ کرنا ناجائز ہے جو کہ تنگ دستی وغیرہ میں مبتلا ہو۔ پس جب بیٹے کا نظریہ عدم جواز کا ہو تو ا س کا باپ کو قید کروا دینا نافرمانی کہلائے گی کیونکہ اگر وہ یہی معاملہ ناجائز طور پر کسی دوسرے فرد کے ساتھ کرتاتو حرام ہوتا۔
(۵)…البتہ! صرف جائز شکوہ کرنا اور جائز مطالبہ کرنا نافرمانی نہیں ، بلکہ کئی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے صاحبزادوں نے ان کی موجودگی میں خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں یہ شکایت کی کہ اُن کا باپ اُن کا مال بے جا استعمال کرتا ہے، لیکن آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کو نافرمانی قرار نہ دیا اورنہ ہی مذکورہ شکوہ کی وجہ سے بیٹے کو ملامت کی۔
(۶)…جب بیٹے نے اپنے والدین میں سے کسی کو جھڑکا تو اس کا ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہو گا بشرطیکہ اگر وہ یہی برتاؤ ان کے علاوہ کسی دوسرے سے کرتا تو حرام ہوتا، لیکن اگر کسی دوسرے سے یہ برتاؤ حرام نہ ہو مثلاً کسی کو اُف کہنا وغیرہ تو یہ والدین کے حق میں صغیرہ ہو گا اور اس سے وہ ممانعت لازم نہیں آتی جوقرآنِ کریم میں والدین سے ایسا برتاؤ کرنے کے متعلق آئی ہے، بلکہ ان دونوں صورتوں کا کبیرہ ہونا اسی وقت لازم آئے گا جب مذکورہ حالت پائی جائے گی۔
دوسرے نکتہ کی وضاحت :
ہمارا قول یہ ہے کہ ’’بیٹا ان کے کسی ایسے حکم کو ماننے سے انکار کر
دے یا کسی ایسے کام سے منع کرنے پر ان کی مخالفت کرے جس میں اس کی اپنی جان جانے
کا خدشہ ہو…الخ۔‘‘ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ وہ جہاد وغیرہ کے لئے کوئی خطرناک
سفر کرے جس میں اس کی جان جانے یا کسی عضو کے ضائع ہونے کا خوف ہو کیونکہ اس پر
والدین یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع