دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal Jild 2 | جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

book_icon
جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

کرنے اور خاموشی سے حکم ماننے کے باوجود اُن سے اُکتا جائے تو یہ صغیرہ گناہ ہو گا اور اگر اُن کی حکم عدولی کرے اور وہ مجبور ہو کرتنگ دل ہو جائیں اور اسے اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے منع کرنا چھوڑ دیں اور اس کے سبب انہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ کبیرہ گناہ ہو جائے گا۔

جس توجیہ پر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا کلام دلالت کرتا ہے کہ یہ کبیرہ ہے جیسا کہ نافرمانی کے قاعدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی نافرمانی کرنا کبیرہ گناہ ہے اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ اس سے دونوں کو یا کسی ایک کو ایسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے جو عرفاً آسان نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ ا س کے کبیرہ ہونے میں اذیت کا اعتبار ہو، لیکن اگر باپ بہت زیادہ احمق یا بے عقل ہو اور اپنے بیٹے کو کوئی ایسا کام کرنے کا کہے یا کسی ایسے کام سے منع کرے جس کی مخالفت عرف میں نافرمانی شمار نہیں کی جاتی تو عذر کی وجہ سے اس صورت میں مخالفت کرنے سے بیٹا فاسق نہیں ہو گا اور اگر اس نے کسی ایسی خاتون سے شادی کی جس سے اسے محبت تھی پھر باپ نے اسے طلاق دینے کا حکم دے دیا اگرچہ اس نے یہ حکم عورت کے پاک دامن نہ ہونے کی وجہ سے دیا ہو مگر بیٹے نے باپ کا حکم نہ مانا تو اس پرکوئی گناہ نہیں جیسا کہ حضرت سیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اس کی وضاحت مروی ہے لیکن اس میں بھی اشارہ ہے کہ باپ کا حکم مانتے ہوئے طلاق دینا افضل ہے اور درج ذیل حدیث کو بھی اسی معنٰی پر محمول کیا جائے گا کہ،

{47}امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے کو بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا تو انہوں نے انکار کر دیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے طلاق دینے کا حکم فرما دیا۔ (۱)

اسی طرح باپ کے بقیہ وہ تمام احکام جن کا سبب اس کی عقل کی کمی یا رائے کی کمزوری ہو کہ اگر ایسے احکام صاحبِ عقل لوگوں کے سامنے پیش کئے جائیں تو وہ انہیں ایسے امور میں شما ر کریں جن میں سستی ہو سکتی ہے اور وہ یہی خیال کریں کہ ان کی مخالفت کرنے سے اذیت نہیں ہوتی۔ اس تعریف کی وضاحت سے یہی نتیجہ اخذ ہوا۔ پھر میں نے شیخ الاسلام حضرت سیِّدُنا سراج بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے فتاویٰ جات میں اس مقام پر طویل گفتگو فرمائی ہے جس کا کچھ حصہ میری بیان کردہ بحث کی مخالفت کرتا ہے اور ان کی عبارت یہ ہے کہ ’’وہ مسئلہ کہ جس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1سنن ابی داود،کتاب الادب ،باب فی بر الوالدین ،الحدیث:۵۱۳۸، ص۱۵۹۹،مفہومًا۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن