30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۶)…تیری صغر سنی میں کتنی ہی باروہ خود بھوکی رہی اور محبت وشفقت سے اپنا کھانا بھی تجھے عطاکر دیا۔
(۷)…افسوس ہے اس پر جو عقل رکھنے کے باوجود خواہشاتِ نفسانیہ کی پیروی کرتا ہے اور افسوس ہے اس پر بھی جو سر کی آنکھیں تو رکھتا ہے لیکن نگاۂ بصیرت(یعنی دل کی آنکھوں ) سے محروم ہے۔
(۸)…خبردار! اس کی خلوص سے بھرپور دعاؤں میں رغبت رکھ، کیونکہ تو اس کی دعاؤں کا محتاج ہے۔ (۱)
تنبیہ:
والدین کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شما ر کرنے پر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اتفاق ہے، ہمارے(شافعی ) ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا ظاہر بلکہ صریح کلام یہ ہے کہ ’’(حسنِ سلوک کے سلسلے میں )کافر اور مسلمان والدین کے درمیان کوئی فرق نہیں۔‘‘ اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ حدیثِ پاک میں تو یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب، منزہ عن الْعُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کبیرہ گناہ 9 ہیں ، ان میں سب سے بڑا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، ناحق کسی مومن کو قتل کرنا، جنگ سے بھاگنا، پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا، جادو کرنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا ،مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا ہے (اوربیت اللہ کی حرمت کو پامال کرنا)۔‘‘ (۲)
ہم کہتے ہیں کہ اس حدیثِ پاک میں والدین کے مسلمان ہونے کی قید لگانے کی 2 وجہیں ہیں : (۱)… مسلمان والدین کی نافرمانی کافر والدین کی نافرمانی سے زیادہ بری ہے اور یہاں پر کلام ان گناہوں کے متعلق ہے جو زیادہ بڑے ہیں جیسے قتل مومن اور اس کے مابعد مذکورگناہ (۲)…یا اس کی وجہ یہ ہے کہ غالب کا اعتبار کرتے ہوئے مسلمان والدین کا ذکر کیا گیا جیسا کہ دوسری مثالوں میں ذکر کیا گیا۔
حضرت سیِّدُنا حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے یہاں پر ایک کمزور رائے پر مبنی تفصیل ذکر کی ہے جو ابتدا میں گزر چکی ہے یعنی ’’والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے لیکن اگر اس کے ساتھ گالی گلوچ بھی ہو تو بہت ہی برا ہے اور اگر اس طرح نافرمانی کرے کہ ان کے حکم اور منع کرنے کو بوجھ سمجھے، ان دونوں کے سامنے ترش روئی اختیار کرے، ان کی اطاعت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…کتاب الکبائر للذہبی،الکبیرۃ الثامنۃ،عقوق الوالدین،ص۴۹،۵۰۔
2…المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۱،ج۱۷،ص۴۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع