30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک قاصد کو یہ پیغام دے کر اُن کے پاس بھیجا: ’’اگر آپ میرے پاس آسکتی ہیں تو آجائیں ورنہ گھر میں ہی میراانتظار کریں یہاں تک کہ میں آجاؤں۔‘‘
جب قاصد نے جا کر انہیں یہ بتایا تو وہ کہنے لگی:’’میری جان آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان ! میرا زیادہ حق بنتا ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضری دوں۔‘‘ وہ لاٹھی کے سہارے کھڑی ہو گئی اور دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحر وبَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اسے سلام کا جواب مرحمت فرمایا اور ارشاد فرمایا:’’اے علقمہ کی ماں ! تم سچ بولو یا جھوٹ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے وحی آ چکی ہے، آپ کے بیٹے علقمہ کا کیا حال تھا؟‘‘ اس نے عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ بہت زیادہ نماز پڑھنے والا، روزے رکھنے والا اور صدقہ دینے والا تھا۔‘‘ پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا:’’تمہارا کیا حال ہے؟‘‘ عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں تو اس پر ناراض ہوں۔‘‘ پوچھا: ’’کس وجہ سے؟‘‘ عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ اپنی بیوی کو مجھ پر ترجیح دیتا اور میری نافرمانی کیا کرتا تھا۔‘‘
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ علقمہ کی ماں کی ناراضی نے اس کی زبان کو کلمۂ
شہادت پڑھنے سے روک دیا ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا:’’اے بلال! جاؤ اور بہت ساری
لکڑیاں اکٹھی کرو۔‘‘ اس عورت نے عرض کی:’’یارسول
اللہ صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!انہیں کیا کریں گے۔‘‘ارشاد فرمایا:’’علقمہ کو آگ میں جلاؤں گا۔‘‘اس
نے عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرادل
برداشت نہیں کر سکتا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے بیٹے کو میرے سامنے آگ میں جلائیں۔‘‘ ارشاد فرمایا:’’اے علقمہ
کی ماں ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب تو اس سے بھی سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے، اگر تجھے یہ پسند
ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی مغفرت فرما دے
تو اس سے راضی ہو جا، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!جب تک تم
اپنے بیٹے سے ناراض رہوگی اس وقت تک اس کی نماز، روزہ اور صدقہ اسے نفع نہ دے
گا۔‘‘ اس نے عرض کی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں اللہ عَزَّوَجَلَّ، اس کے فرشتوں
اور یہاں موجود مسلمانوں کو گواہ بناتی ہوں کہ میں اپنے بیٹے علقمہ سے راضی ہوچکی
ہوں۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع