30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے اس کی والدہ محترمہ کو بلایا تو وہ حاضرِ خدمت ہو گئیں ، آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا:’’کیا یہ آپ کا بیٹاہے؟‘‘اس نے جواب دیا: ’’ جی ہاں۔‘‘ ارشاد فرمایا:’’ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں زبردست آگ بھڑکاؤں اور تمہیں کہا جائے کہ اگر اس کی سفارش کرو گی تو ہم اسے چھوڑ دیں گے ورنہ آگ میں جلا دیں گے تو کیا اس کی سفارش کرو گی؟‘‘ اس نے عرض کی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! تب تو میں سفارش کرتی ہوں۔‘‘ تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کو اور مجھے اس بات کا گواہ بناؤ کہ تم اس سے راضی ہو گئی ہو۔‘‘ اس نے عرض کی:’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھے اور تیرے رسول کو گواہ بناتی ہوں کہ میں اپنے بیٹے سے راضی ہو گئی ہوں۔‘‘اس کے بعدرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس لڑکے سے ارشاد فرمایا: ’’اے لڑکے! پڑھولَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَــہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔‘‘جب اس نے پڑھا تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے اسے جہنم سے نجات عطافرمائی۔‘‘ (۱)
{36}…یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ بھی مروی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ’’اُس نوجوان کا نام علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھا، وہ نماز، روزہ اورصدقہ جیسی عبادات کی ادائیگی میں حد درجہ کوشش کرتا، وہ بیمار ہو گیا اور اس کا مرض طول پکڑ گیا، اس نے اپنی بیوی کو سرکارِ مدینہ، راحت ِقلب و سینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت ِسراپا عظمت میں یہ پیغام دے کر بھیجا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا شوہر علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حالتِ نزع میں ہے، میں نے چاہا کہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس کی حالت سے آگاہ کروں۔‘‘
آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عمار، حضرت سیِّدُنا بلال اور حضرت سیِّدُنا صہیب رومی رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو بھیجا اور ارشاد فرمایا:’’ان کے پاس جائیں اور انہیں کلمۂ شہادت کی تلقین کریں۔‘‘ لہٰذا وہ سب حضرت سیِّدُنا علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے اور انہیں حالت ِ نزع میں پا کر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کی تلقین کرنا شروع کر دی لیکن ان کی زبان اسے ادا نہیں کر پا رہی تھی، انہوں نے سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس صورتِ حال عرض کی ، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا:’’کیا اس کے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟‘‘ عرض کی گئی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان کی بوڑھی ماں ہے۔‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الترغیب والترہیب،کتاب البر والصلۃ،باب الترھیب من عقوق الوالدین،الحدیث:۳۸۳۲،ج۳،ص۲۶۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع