30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وتر) چیز ایسی نہیں جو یہ سن کرروئی نہ ہو۔‘‘پھراس کے بیٹے سے ارشاد فرمایا:’’تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔‘‘ (۱)
{33}…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ’’شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ نازمیں ایک شخص اپنے باپ کے خلاف شکایت لے کر حاضر ہوا اور عرض کی:’’اس نے مجھ سے میرا مال لے لیا ہے۔‘‘ توآپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’کیا تو نہیں جانتا کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کی کمائی سے ہے۔‘‘ (۲)
{34}…تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ سراپا رحمت میں ایک شخص حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: ’’میرا باپ میرا مال تلف(یعنی بے جا استعمال) کرنا چاہتا ہے۔‘‘ تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے،کیونکہ تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے پس اپنے اموال میں سے کھاؤ۔‘‘ (۳)
{35}…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن ابی اوفٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سب حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی:’’ ایک نوجوان جاں کَنی کی حالت میں ہے، اسے کہا گیالَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھو تو وہ نہ پڑھ سکا۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا: ’’کیا وہ نماز پڑھتا تھا ؟‘‘ عرض کی: ’’جی ہاں۔‘‘ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اٹھ کر چل دیئے تو ہم بھی آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ چل پڑے، آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نوجوان کے پاس پہنچے اور اسے فرمایا: ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھو۔ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’میں نہیں پڑھ سکتا۔‘‘ دریافت فرمایا: ’’کیوں نہیں پڑھ سکتے؟ ‘‘ تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بتایا گیا: ’’یہ اپنی ماں کی نافرمانی کرتا تھا۔‘‘
حضور سیدعالم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا: ’’کیا اس کی والدہ زندہ ہے؟‘‘صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’جی ہاں۔‘‘ تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اُسے بلا لاؤ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الکشاف،بنی اسرائیل،تحت الآیۃ۲۴،ج۲،ص۶۵۹۔
2…المعجم الکبیر،الحدیث:۱۳۳۴۵،ج۱۲،ص۲۷۷۔
3…سنن ابن ماجہ،ابواب التجارات ،باب ما للرجل من مال ولدہ ،الحدیث:۲۲۹۲،ص۲۶۱۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع