30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیکی کرنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں انتہائی کوتاہی سے کام لے رہا ہے جس کے سبب وہ انتہائی ذلیل و حقیر ہے اوروہ اسی حالت پر رہے یہاں تک کہ ان کا دل مطمئن ہوجائے اور وہ اس سے دلی طور پرراضی ہو جائیں اور اسے اپنی رضامندی اور دعاؤں سے نوازیں۔
اسی وجہ سے اس کے بعد اسے حکم دیاگیا: ’’وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا‘‘ یعنی ان کے لئے دعا کرے کیونکہ ان کی سابقہ خدمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان کے لئے دعا کریں ، لہٰذا اگر والدین اور اولاد میں برابری بھی فرض کر لی جائے تب بھی اولاد ان کے حق میں دعا مانگ کر انہیں بدلہ دے ورنہ دونوں (یعنی والدین اور اولاد) کے مراتب میں بہت فرق ہے۔ اور برابری بھی کیسے تصور کی جاسکتی ہے؟ حالانکہ وہ تمہاری تکلیف اور کمزوری کا بوجھ برداشت کرتے رہے، تمہاری تربیت میں عظیم مشقت اٹھائی، تمہاری زندگی اور سعادت کی امید رکھتے ہوئے تم پر حد درجہ احسان کرتے رہے لیکن اگر تمہیں ان کی تکالیف کا بوجھ اٹھانا پڑا تو ان کی موت کی آرزو کرنے لگو اور ان کے ساتھ زندگی بسر کرنے سے اُکتا جاؤ اور ماں تو اس سے بھی زیادہ تکلیف برداشت کرتی اور زیادہ صبر کرتی ہے مزید یہ کہ اس کی عنایت اور شفقت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ حمل، وضعِ حمل، ولادت، دودھ پلانے اور راتوں کو جاگنے کی تکلیف اٹھاتی ہے نیز گندگی اور نجاست سے آلودہ ہوتی ہے۔ اپنے بچے کو صاف جگہ پر لٹاتی اور آسائش مہیا کرتی ہے ۔ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ماں کے ساتھ نیکی کرنے پر 3 بار اور باپ کے ساتھ نیکی کرنے پر ایک بار اُبھارا۔ چنانچہ،
ماں کی شان :
{2}…ایک شخص رحمت ِ عالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے حسن اخلاق کا زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’تمہاری ماں۔‘‘ اس نے دوبارہ عرض کی:’’اس کے بعد کون؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’تمہاری ماں۔‘‘ تیسری بار عرض کی:’’اس کے بعد کون؟‘‘ تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس مرتبہ بھی یہی ارشاد فرمایا:’’تمہاری ماں۔‘‘ اس نے پھر عرض کی:’’اس کے بعد کون؟‘‘ تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تیرا باپ، پھر قریبی کا زیادہ حق ہے پھر جو اس کے بعد قریبی ہو۔‘‘ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب الأدب،باب من احق الناس بحسن الصحبۃ،الحدیث:۵۹۷۱،ص۵۰۶۔
سنن ابی داود،کتاب الأدب ،باب فی برالوالدین، الحدیث:۵۱۳۹،ص۱۵۹۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع