30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر299: استبراء سے پہلے لونڈی سے جماع کرنا
(یعنی رحم خالی ہونے کی مدت پوری ہونے سے پہلے لونڈی سے جماع کرنا)
اسے بھی کبیرہ گناہوں میں ذکر کرنا بعید نہیں کیونکہ اس میں نطفوں کے خلط ملط ہونے اورنسبوں کے ضائع ہونے جیسے مفاسد پائے جاتے ہیں۔ پھر میں نے مسلم شریف کی ایک صریح حدیث ِ پاک دیکھی جس میں ممانعت کے لئے حاملہ ہونے کی شرط ہے۔ چنانچہ،
{1}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی خیمہ کے پاس کھڑی ایک حاملہ عورت کے پاس سے گزرے۔ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی:’’یہ فلاں کی لونڈی ہے۔‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’کیا وہ اس سے بدکاری کرواتا ہے؟‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی ’’جی ہاں !‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’میں نے عزم کیا ہے کہ اس شخص پرایسی لعنت بھیجوں جو قبر میں بھی اس کے ساتھ جائے، وہ کیسے اس بچہ کا وارث ہو گا حالانکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ؟ اور وہ اس کو کیسے غلام بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں۔‘‘ (۱)
سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ اس لئے فرمایا کیونکہ بچے کا معاملہ مشکل ہے۔ ہو سکتا ہے وہ اسی کا ہو یا کسی دوسرے کا، اگر وہ اسی کا ہوا تو پھر بھی اس کے لئے اس کا انکار کرنا، اسے غلام بنانا اور اس سے خدمت لینا جائز نہیں اور اگر کسی دوسرے کا ہوا تو بھی اس کے لئے اسے اپنے خاندان میں ملانا اور وارث بنانا جائز نہیں۔
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب النکاح ،باب تحریم وطیٔ الحامل المسبیۃ ،الحدیث:۳۵۶۲،ص۹۲۰۔
شرح السنۃ،کتاب العدۃ،باب استبراء الأمۃ المسبیۃ، الحدیث: ۲۳۸۸،ج۵،ص۲۳۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع